سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

اروندر سنگھ لولی نے عہدہ سنبھالتے ہی سیاسی سرگرمیاں کیں تیز

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروندر سنگھ لولی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ آج دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (DUSU) کے انتخابات کیلئے اروندر سنگھ لولی نے پانچ لوگوں پر مشتمل ایک رابطہ کمیٹی کا اعلان پردیش کانگریس دفتر راجیو بھون میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں سابق طلباء لیڈر انل بھاردواج، نیرج بسویا، کمل کانت شرما، امت ملک اور جے کرن چودھری اس کے رکن ہوں گے۔ یہ کمیٹی طلبہ یونین کے انتخابات میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کی دیکھ ریکھ کرے گی۔

اروندر نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں نیشنل اسٹوڈینٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے چاروں اُمیدواروں ہتیش گولیا (صدر)، ابھی دہیا (نائب صدر)، یکشنا شرما (سکریٹری) اور شبھم چودھری (جوائنٹ سکریٹری) کا تعارف کرایا۔

واضح رہے کہ جب سے لولی نے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے دہلی کانگریس میں زبردست جوش دیکھنے کو مل رہا ہے اور پارٹی زمینی سطح پر پوری طرح سے سرگرم ہو گئی ہے۔ طلبہ یونین کے انتخابات کے حوالے سے طلب کی گئی ہنگامی میٹنگ میں آج دہلی بھر سے کانگریس کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانگریس کے تمام کارکنوں نے حلف لیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں دہلی یونیورسٹی کے طلباء سے ملیں گے اور ان کی حمایت حاصل کریں گے اور تمام 280 بلاکس میں میٹنگیں منعقد کی جائیں گی۔ اروندر سنگھ نے آنے والے طلبہ یونین کے انتخابات میں چاروں اُمیدواروں کی جیت کے لیے کوشش کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ اکھل بھارتیہ ودیارتی پریشد (اے بی وی پی) نے دہلی یونیورسٹی کے طلباء کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ نہیں کیا۔ چاہے کیمپس کے ماحول کی بات ہو، خواتین کی حفاظت کا مسئلہ ہو۔ ہاسٹل سے متعلق بڑے مسائل کو دور کرنے میں اے بی وی پی پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے بی وی پی نے دہلی میں طلباء کے مفادات کے لیے کبھی کام نہیں کیا جس کو ہر کس و ناکس اچھی طرح جانتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں ایک بھی نیا کالج یا یونیورسٹی نہیں بنائی گئی جس کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ دہلی کانگریس صدر نے کہا کہ گرو گوبند سنگھ یونیورسٹی کے تحت بھی کوئی کالج نہیں بنایا گیا، جبکہ کانگریس کے دور حکومت میں 5 نئی یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔

میٹنگ میں نظامت کے فرائض کمیونکیشن ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین انل بھاردواج نے ادا کیے۔ اہم شرکاء میں این ایس یو آئی کے قومی صدر نیرج کندن، دہلی حکومت کے سابق وزیر ہارون یوسف، منگت رام سنگھل، کرن والیا، جتیندر کمار کوچر، سابق ایم ایل اے جے کشن، سریندر کمار، بھیشم شرما، ویر سنگھ دھینگان، امرتا دھون، بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری زبیر احمد، جاوید مرزا کے علاوہ کثیر تعداد میں دہلی یونیورسٹی کے طلباء موجود تھے۔