سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

لیبیا میں سیلاب سے تباہی، ہلاک شدگان کی تعداد 20 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ!

طرابلس: شمالی افریقہ کے ملک مشرقی لیبیا میں ایک طاقتور طوفان کی وجہ سے آنے والی شدید بارش کے باعث سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 6000 ہو گئی ہے، جبکہ سات ہزار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کےمطابق لیبیا میں سمندری طوفان کے بعد آنے والے سیلاب نے بربادی مچا دی، درنا شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ تباہی دیکھ کر اندازہ ہے کہ ہلاکتیں 20 ہزار سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔ شہر کے اندر اور ساحل پر لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ لیبیا کی حکومت نے سمندری طوفان کے بعد شمال مشرقی ساحلوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ عالمی تنظیموں سے امداد کی اپیل بھی کر دی۔

ایک رپورٹ کے مطابق شہر درنا کا چوتھائی حصہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے۔ طرابلس میں قائم ہنگامی خدمات کے ترجمان اسامہ علی نے کہا کہ ابھی تک ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 ہزار افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے اور متاثرہ علاقوں سے 30 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

علی نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو بنیادی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اتوار کو مشرقی لیبیا سے ٹکرانے والے بحیرہ روم کے طوفان کی وجہ سے کئی علاقے سیلاب کی زد میں آ گئے تھے۔ اس سے جان و مال کو کافی نقصان پہنچا ہے۔