سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

بہار: اسکولی بچوں سے بھری کشتی دریا میں غرقآب، 20 کو بچا لیا گیا، 10 لاپتہ

مظفر پور: بہار کے مظفر پور میں جمعرات (14 ستمبر) کی صبح اسکولی بچوں سے بھری کشتی باگمتی ندی میں ڈوب گئی۔ مقامی لوگوں کی مدد سے 20 کے قریب بچوں کو باہر نکالا گیا ہے، جن میں سے کچھ نے تیر کر اپنی جان بچائی۔ جبکہ تقریباً 10 بچے اب بھی لاپتہ ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کشتی میں 30 کے قریب بچے سوار تھے۔ تاہم ابھی تک کوئی بھی واضح اعداد و شمار کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ بینی آباد او پی علاقہ کے مدھور پٹی گھاٹ کے قریب پیش آیا۔ لاپتہ بچوں کی تلاش جاری ہے۔ ایس ڈی آر ایف کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے۔ مقامی غوطہ خور بھی بچوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کشتی پر کچھ خواتین بھی سوار تھیں، تاہم ابھی تک اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ واقعے کے حوالے سے ملاح نے بتایا کہ وہ کشتی پر لوگوں کو لا رہا تھا کہ اچانک رسی ٹوٹنے سے یہ واقعہ پیش آیا۔ ملاح کے مطابق جہاز میں تقریباً 30 افراد سوار تھے۔ اس نے کہا کہ اب بھی کئی لوگ لاپتہ ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق کشتی پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے دوبی ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے ڈی ایس پی ایسٹ شہریار اختر کا کہنا تھا کہ ’’پورے معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کشتی میں تقریباً 25 سے 30 افراد سوار تھے۔ کشتی پر کتنے افراد سوار تھے یہ سب کے گھر والوں کے آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔ تقریباً 20 افراد کو نکال لیا گیا ہے۔‘‘‘

مقامی لوگوں نے بتایا کہ کشتی پر نویں اور دسویں جماعت کے بچے سوار تھے۔ بچوں کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ بتایا گیا کہ اس طرف سے دوسری طرف جانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ کشتی ہی سہارا ہے۔ واقعہ کے بعد موقع پر کہرام مچ گیا۔ بتایا گیا کہ کشتی کے ذریعے سفر کرنا شارٹ کٹ راستہ ہے، اس لیے لوگ زیادہ تر کشتی سے سفر کرتے ہیں۔

اس واقعہ پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ ڈی ایم کو اس کی جانچ کرنے کو کہا گیا ہے۔ جو بھی خاندان اس واقعے سے متاثر ہوا ہے اس کی مدد کی جائے گی۔ خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار مظفر پور گئے ہوئے تھے۔ انہیں یہاں وااقع ایس کے ایم سی ایچ میں نو تعمیر شدہ پیکو وارڈ کا افتتاح ہونا تھا۔