سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

اداکار پون کلیان نے جیل میں چندرابابو نائیڈو سے کی ملاقات، انتخابی اتحاد کا کیا اعلان

جَن سینا پارٹی (جے ایس پی) لیڈر اور مشہور اداکار پون کلیان نے جمعرات کو تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) چیف چندرابابو نائیڈو سے راجمندری سنٹرل جیل میں ملاقات کی اور اس کے بعد اعلان کیا کہ آندھرا پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخاب جے ایس پی اور ٹی ڈی پی ایک ساتھ مل کر لڑے گی۔ پون کلیان نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ وائی ایس جگن موہن ریڈی کی بدتر حکمرانی کو ختم کرنے کے مقصد سے ووٹوں کی تقسیم سے بچنے کے لیے بی جے پی بھی ان کے ساتھ ہاتھ ملائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پون کلیان نے ٹی ڈی پی رکن اسمبلی این بال کرشن اور ٹی ڈی پی جنرل سکریٹری نارا لوکیش کے ساتھ چندرابابو نائیڈو سے ملاقات کے لیے جیل پہنچے جو کہ کوشل وِکاس نگم گھوٹالے میں عدالتی حراست میں ہیں۔ اس ملاقات کے بعد جے ایس پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ جیل میں نائیڈو سے ان کی ملاقات ریاست کے لیے ایک اہم ملاقات تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے ٹی ڈی پی کے ساتھ اتحاد میں آئندہ اسمبلی انتخاب لڑنے کے اپنے فیصلے سے نائیڈو کو مطلع کرا دیا ہے۔‘‘ پون کلیان، جن کی پارٹی این ڈی اے کا حصہ ہے، نے امید ظاہر کی ہے کہ بی جے پی بھی اس معاملے میں مثبت فیصلہ لے گی۔

اپنے بیان میں پون کلیان نے کہا کہ ’’یہ فیصلہ ہمارے مستقبل کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ پوری ریاست کے مستقبل کے لیے ہے۔ اگر ہم الگ الگ انتخاب لڑتے ہیں تو یہ انارکی والی حکومت اگلے ایک یا دو دہائیوں تک چل سکتی ہے۔‘‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ جے ایس پی کتنی سیٹوں پر انتخاب لڑے گی، تو انھوں نے کہا کہ یہ سب بعد میں طے کیا جائے گا۔ جے ایس پی اور ٹی ڈی پی دونوں ایک ساتھ کیے جانے والے پروگراموں پر فیصلہ لینے کے لیے ایک جوائنٹ کمیٹی بنائیں گی۔