سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

آسام میں تعدد ازدواج پر پابندی کا معاملہ، گورنر نے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی

گوہاٹی: تعدد ازدواج پر پابندی کے لیے مناسب قانون سازی کا مسودہ تیار کرنے کے مقصد سے آسام کے گورنر گلاب چند کٹاریا نے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمیٹی غلط شناخت کی وجہ سے ہونے والی بین المذاہب شادیوں، بچوں کی شادیوں میں قاضی کا کردار جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی قانون سازی میں تجاویز پیش کرے گی۔

پانچ رکنی کمیٹی میں دیوجیت سائکیا، ایڈوکیٹ جنرل آسام آئی جی سنگھ، ڈی جی پی آسام نلین کوہلی اور ایڈیشنل اے جی آسام شامل ہیں۔ کمیٹی اس موضوع سے متعلق مختلف امور پر تجاویز طلب کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ اس کی مخالفت میں دائر کی گئی زیر التواء درخواستوں کا مطالعہ کیا جائے گا۔ کمیٹی کے ارکان بذات خود ان والوں سے ملاقات کریں گے اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کے خیالات جاننے کے لیے لا کمیشن سے بھی ملاقات کریں گے۔ کمیٹی 45 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ آسام میں تعدد ازدواج پر پابندی کے مجوزہ بل کے لیے تقریباً 150 تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن میں سے صرف تین میں اس کی مخالفت کی گئی ہے۔ حال ہی میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ مجوزہ قانون کا حتمی مسودہ اب شروع ہو گا اور اگلے 45 دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ آسام حکومت نے 21 اگست کو ایک نوٹس جاری کیا تھا جس میں متنازعہ موضوع پر مجوزہ قانون پر عوام کی رائے طلب کی گئی تھی۔ سرما کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے نوٹس میں لوگوں سے 30 اگست تک ای میل یا پوسٹ کے ذریعے اپنی رائے بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی۔

آسام حکومت نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی حمایت میں ہے اور ریاست میں تعدد ازدواج پر فوری پابندی لگانا چاہتی ہے۔ جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس سے قبل تعدد ازدواج پر قانون بنانے کے حکومتی فیصلے پر تنقید کی تھی۔