سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس: ایجنڈے سے اٹھ گیا پردہ، 4 بل ہوں گے پیش!

مرکزی حکومت کی طرف سے طلب کردہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کو لے کر ابھی تک ایجنڈا واضح نہیں تھا، لیکن اب اس سے پردہ اٹھا کیا ہے۔ 13 ستمبر کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا جو بلیٹن جاری ہوا ہے، اس کے مطابق پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے پہلے دن، یعنی 18 ستمبر کو آئین ساز اسمبلی سے شروع ہوئے 75 سالہ پارلیمانی سفر پر گفتگو ہوگی۔ اس دوران 75 سالہ پارلیمانی سفر کی حصولیابیوں، تجربات، یادداشتوں اور حاصل سبق پر بحث ہوگی۔

بلیٹن میں لکھا گیا ہے ’’اراکین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ پیر یعنی 18 ستمبر کو دیگر رسمی کام جیسے کاغذات رکھنے کے علاوہ آئین ساز اسمبلی سے شروع ہونے والے 75 سالوں کے پارلیمانی سفر، حصولیابیوں، تجربات، یادیں اور سبق موضوع پر ایک بحث منعقد کی جائے گی۔‘‘ اس کے علاوہ یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کی بحث کے دوران 4 بل بھی فہرست بند کیے گئے ہیں۔ ان میں ایڈووکیٹ امینڈمنٹ بل، پریس اینڈ رجسٹریشن آف پیریوڈیکلس بل، پوسٹ آفس بل اور چیف الیکشن کمشنر و دیگر الیکشن کمشنر تقرری سروس شرط بل شامل ہیں۔

خصوصی اجلاس کا ایجنڈا سامنے آنے کے بعد کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’آخر کار محترمہ سونیا گاندھی کے ذریعہ وزیر اعظم کو لکھے خط سے دباؤ بنا اور مودی حکومت کو 18 ستمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی 5 روزہ اجلاس کے ایجنڈے کا اعلان کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے لکھا ہے ’’ایجنڈا، جیسا کہ ابھی شائع کیا گیا ہے، اس میں کوئی بھی ایسا ہنگامی موضوع موجود نہیں جس کے لیے نومبر میں سرمائی اجلاس تک انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ قانون سازی کے دستی بموں کو ہمیشہ کی طرح آخری لمحات میں پھینکنے کے لیے آستینوں میں رکھی جا رہی ہیں۔ پردے کے پیچھے کچھ اور ہے!‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں جئے رام رمیش یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’انڈیا اتحاد کی پارٹیاں چیف الیکشن کمشنر بل کی سخت مخالفت کریں گی۔‘‘

اس سے قبل آج دن میں پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے بتایا تھا کہ پانچ رکنی پارلیمانی اجلاس کی شروعات سے ایک دن قبل 17 ستمبر کو سبھی سیاسی پارٹیوں کے فلور لیڈرس کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ پرہلاد جوشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’’میٹنگ کا دعوت نامہ سبھی متعلقہ لیڈروں کو بذریعہ ای میل بھیجا گیا ہے۔‘‘