سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

نیپا وائرس کا پھیلاؤ: دو اموات کے بعد تمل ناڈو-کیرالہ سرحد پر ہیلتھ الرٹ جاری

چنئی: کیرالہ کے کوزیکوڈ میں نیپا وائرس سے ہونے والی اموات کے بعد تمل ناڈو کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ہیلتھ اینڈ پریونٹیو میڈیسن نے سرحدی علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔ جنوبی ریاست کیرالہ میں نیپا وائرس سے دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سے ایک شخص رواں ماہ کے شروع میں جبکہ دوسری ہلاکت 30 اگست کو ہوئی۔

ڈاکٹر ٹی ایس ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ اینڈ پریوینٹیو میڈیسن، حکومت تمل ناڈو سیلویانگم نے ایک بیان میں کہا ’’کیرالہ سے رپورٹ ہونے والے نیپا وائرس کے دو معاملات کے پیش نظر ہم صحت کی ٹیموں کے ذریعے کیرالہ سے آنے والے مسافروں کی سرحدی چوکیوں پر اسکریننگ کریں گے۔ تمل ناڈو کے 6 اضلاع میں جو کیرالہ کے ساتھ سرحد کا اشتراک کرتے ہیں 24 گھنٹوں کے لیے ایک الگ ٹیم تعینات کی گئی ہے۔

وہ چھ اضلاع ہیں نیل گری، کوئمبٹور، تروپور، تھینی، ٹینکاسی اور کنیا کماری ہیں۔ ہیلتھ سروسز کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام علامتی بخار کے کیسز کی سرحدوں پر ضروری حفاظتی سامان کے ساتھ اسکریننگ کریں۔ تمل ناڈو کے وزیر صحت ما سبرامنیم نے نیل گیری ضلع کے گڈالور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیرالہ میں نیپا پھیلنے سے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ بخار کی علامات ظاہر کرنے والوں کی اسکریننگ کی جائے گی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق نیپا وائرس جانوروں سے لگنے والا ایک وائرس ہے جب کہ وائرس مضر کھانوں اور متاثرہ شخص سے بھی لگتا ہے، کبھی کبھار وائرس میں مبتلا شخص میں اس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں تاہم کبھی کبھار متاثرہ شخص کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے، یہ وائرس دماغ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وائرس کے نتیجے میں اموات کی شرح بہت زیادہ ہے جبکہ فی الحال اس کی کوئی دوا یا ویکسین موجود نہیں ہے۔ مرکزی وزیر صحت منسکھ مانڈویہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاست کیرالہ میں اس صورتحال پر نظر رکھنے اور قابو پانے کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم روانہ کر دی ہے۔ وہیں، کیرالہ کے وزیر صحت نے کہا کہ وائرس سے مرنے والے دونوں افراد سے رابطے میں رہنے والے 168 افراد کے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔