سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

اتراکھنڈ کے 117 مدارس کے نصاب میں تبدیلی، سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی

دہرادون: اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اتراکھنڈ میں چل رہے وقف بورڈ کے مدارس میں بچوں کو عربی کے ساتھ سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مدارس کو جدید بنانے کی پہل کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی ای آر ٹی کے نصاب کو نافذ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اب ریاست کے 117 وقف بورڈ مدارس میں سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔

شاداب شمس کے مطابق اس حوالے سے ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے۔ نیز مدارس کو جدید بنانے کے لیے اقدامات کرتے ہوئے بچوں کے لیے ڈریس کوڈ بھی نافذ کیا جائے گا۔ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ ’دیوبھومی‘ کی سرزمین ہے اور یہاں رہنے والے مسلم کمیونٹی کے لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایسے میں وقف بورڈ کے مدارس کی اپ گریڈیشن سے سبھی خوش ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے شاداب شمس نے کہا کہ ’’دیو بھومی اتراکھنڈ میں وقف بورڈ نے ایماندارانہ کوشش کی ہے۔ جس میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے 117 وقف بورڈ مدارس میں این سی ای آر ٹی کا نصاب لاگو کیا جائے گا۔ اس میں سنسکرت زبان کو بھی شامل کیا جائے گا۔ جب ہمارے بچے ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی اور عربی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سنسکرت بھی پڑھ سکتے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’وزیراعلیٰ نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے لیے کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو حکومت اس کے لیے تیار ہے۔ اب مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے بھی ڈاکٹر اور انجینئر بن کر نکلیں گے۔ اب وہ بھی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے راستے پر چلیں گے اور ملک کی شان میں اضافہ کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ہم مثبت جذبات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘