سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

آسام کے وزیر اعلی کی اہلیہ پر بدعنوانی کا الزام، عآپ لیڈر نے کیا ای ڈی-سی بی آئی سے تحقیقات کا مطالبہ

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) آسام کے انچارج راجیش شرما نے بدھ کو آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ رینکی بھوئیاں سرما پر بدعنوانی کا الزام لگایا۔ عآپ لیڈر کا کہنا ہے کہ سی ایم کی اہلیہ نے زمین کی نوعت میں تبدیلی کی شکل میں بدعنوانی کرتے ہوئے موٹی کمائی کی۔ راجیش شرما نے اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں، آسام کے وزیر اعلیٰ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

راجیش شرما نے کہا، "میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ کس طرح عوام کی محنت سے کمائی گئی ٹیکس کی رقم آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خاندان اور دوستوں کو دی جا رہی ہے۔ ان کی اہلیہ رینکی شرما بھوئیاں اپنے شوہر کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ‘آسام کی اڈانی’ بننے کی راہ پر چل پڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسام کے وزیر اعلی کی اہلیہ نے ‘وندیا انٹرنیشنل اسکول’ کے نام سے ایک پرتعیش نجی اسکول کھولا ہے اور وہ ایک چائے کے باغ اور ایک ریزارٹ کی بھی مالک ہیں۔

عآپ لیدر راجیش نے الزام لگایا ہے کہ چیف منسٹر کی اہلیہ نے آسام کے ناگون ضلع میں 106 بیگھہ (35 ایکڑ) سے زیادہ زرعی زمین خریدی ہے۔ یہاں اہم مسئلہ یہ ہے کہ آسام لینڈ سیلنگ ایکٹ کے مطابق کوئی بھی شخص آسام میں 49.50 بیگھہ سے زیادہ زرعی زمین نہیں خرید سکتا۔

تاہم وزیر اعلیٰ کی اہلیہ نے 106 بیگھہ سے زائد زمین خریدی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس زمین میں سے 50 بیگھہ کو آٹھ ماہ کے اندر زرعی سے صنعتی زمین میں تبدیل کیا گیا اور 56 بیگھہ زمین درجہ بندی میں تبدیلی کے بعد خریدی گئی۔

عآپ لیڈر نے کہا کہ وہ زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں کیونکہ ان کے شوہر ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زمین خریدنے کے بعد 25 کروڑ روپے سے زیادہ کے منصوبے کے ساتھ فوڈ پروسیسنگ یونٹ کے قیام کے نام پر 50 بیگھہ کو صنعتی استعمال کے لیے تبدیل کیا گیا اور وزارت فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز نے انہیں اس منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کرپشن ہوا ہے اور یہ وزیراعلیٰ کے خاندان کو سرکاری اسکیم سے براہ راست فائدہ ملنے کا معاملہ ہے۔

عآپ لیڈر راجیش شرما نے مزید کہا کہ آسام میں وزیر اعلیٰ کی اہلیہ نے وزیر اعظم کی اسکیم مستفید کے طور پر 10 کروڑ روپے کی ہیراپھیری کی، جس کی ای ڈی اور سی بی آئی کو تحقیقات کرانے کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں، کانگریس کی طرف سے بھی ہیمنت بسوا کی اہلیہ پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گگوئی نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی اور لکھا ’’وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لیے کسان سمپدا یوجنا کا آغاز کیا لیکن آسام میں وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے اپنی بیوی کی فرم کو کریڈٹ سے منسلک سبسڈی کے حصے کے طور پر 10 کروڑ روپے حاصل کرنے میں مدد کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔ کیا مرکزی حکومت کی اسکیمیں بی جے پی کو مالا مال کرنے کے لیے ہیں؟‘‘

گگوئی کی پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ٹوئٹ کیا، ’’میں واضح کرنا چاہوں گا کہ نہ تو میری بیوی اور نہ ہی وہ جس کمپنی سے وابستہ ہیں اس نے حکومت ہند سے کبھی کوئی مالی سبسڈی حاصل نہیں کی ہے۔‘‘