سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

سی بی آئی کو لالو پرساد یادو کے خلاف مقدمہ چلانے کی دی حکومت نے اجازت

لوک سبھا انتخابات سے قبل حرکت میں آئی مودی سرکار سی بی آئی کو لالو پرساد یادو کے خلاف مقدمہ چلانے کی دی اجازت

نئی دہلی: جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات قریب آ رہے ہیں، مودی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر وہی طاقت استعمال کی جا رہی ہے جو عام طور پر انتخابات کے وقت نظر آتی ہے۔ اسی ضمن میں بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور اب مودی حکومت نے سی بی آئی کو لالو یادو کے خلاف زمین کے عوض نوکری معاملے میں مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی ہے۔

سی بی آئی نے راؤذ ایونیو کورٹ کو معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اسے وزارت داخلہ سے لالو یادو کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم اس معاملے میں حکومت سے ملزم تین افسران کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ملی ہے۔

سی بی آئی نے اس معاملے میں 3 جولائی کو سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس چارج شیٹ میں پہلی بار تیجسوی یادو کا نام آیا ہے۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں لالو یادو، رابڑی دیوی سمیت 16 لوگوں کو ملزم بنایا ہے۔ ان میں ملزم ریلوے افسران اور نوکری لینے والوں کے نام بھی شامل ہیں۔

زمین کے عوض ملازمت کا مسئلہ 14 سال پرانا ہے۔ اس وقت لالو یادو ریلوے کے وزیر تھے۔ الزام ہے کہ لالو یادو نے ریلوے کے وزیر رہتے ہوئے لوگوں کو ریلوے میں نوکری دینے کے عوض ان کی زمینیں حاصل کر لیں۔ سی بی آئی نے اس گھوٹالے میں کئی ریلوے افسران کو بھی ملزم بنایا ہے۔

ظاہر ہے کہ اگر لالو یادو انتخابات کے دوران جیل سے باہر رہتے ہیں تو اس کا اثر انتخابات پر پڑے گا، وہ انتخابی مہم چلائیں گے، جس کی وجہ سے بہار میں بی جے پی اور این ڈی اے کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ انتخابات سے عین قبل لالو یادو پر ایسا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔