سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

سپریم کورٹ نے عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج  منگل کو جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد کی درخواست پر سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ عمر خالد کی طرف سے فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے پیچھے سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت درج ایک مقدمے میں ضمانت کی درخواست  دی تھی جس پر سپریم کورٹ نے  آج سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلی گراف‘ کے نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق جسٹس انیرودھا بوس اور بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے کہا کہ اس معاملے کی تفصیلی سماعت کی ضرورت ہے۔بنچ نے عمر  خالد کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل سے کہا، "اس معاملے میں، ہمیں دستاویز بہ دستاویز جانا پڑے سپریم کورٹ کے جج جسٹس پرشانت کمار مشرا نے 9 اگست کو عمر  خالد کی عرضی کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ کے 18 اکتوبر 2022 کے حکم کو چیلنج کرنے والی عمر  خالد کی درخواست، جس نے اس معاملے میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جسٹس اے ایس بوپنا اور پرشانت کمار مشرا کی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے آئی تھی۔

ہائی کورٹ نےعمر  خالد کی ضمانت کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ وہ دوسرے شریک ملزمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے خلاف الزامات پہلی نظر میں درست ہیں۔واضح رہے عمر خالد، شرجیل امام، اور کئی دیگر کے خلاف فروری 2020 کے فسادات کے مبینہ طور پر ’ماسٹر مائنڈ‘ ہونے کے الزام میں انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔واضح رہےشہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔