سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

جنید ناصر قتل کے کلیدی ملزم اور نوح میں آگ لگانے والے مونو مانیسر کو ہریانہ پولیس نے کیا گرفتار

ہریانہ کے نوح میں حال ہی میں ہوئے تشدد کے ملزم مونو مانیسر کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ بتایا گیا کہ مانیسر کو پولیس اہلکاروں نے حراست میں لیا جو بولیرو اور کریٹا میں آئے تھے۔ مانیسر کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بازار سے نکل رہا تھا۔ مانیسر کو ہریانہ پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ راجستھان پولس بھی ہریانہ پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے۔

مونو مانیسر کو سی آئی اے کے عملے یعنی ہریانہ پولیس کی کرائم انویسٹی گیٹو ایجنسی نے حراست میں لیا ہے۔ مونو مانیسر کے خلاف ہریانہ میں بھی مقدمہ درج ہے۔ فروری 2023 کے ایک معاملے میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 16 فروری کو ہریانہ کے بھیوانی ضلع میں راجستھان کے دو لوگوں کی جلی ہوئی لاشیں ملی تھیں۔ پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ لاشیں راجستھان کے گوپال گڑھ گھاٹمیکا گاؤں کے رہنے والے جنید اور ناصر کی ہیں۔ پولیس کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہریانہ کے کچھ گئو رکشکوں نے مل کر جنید اور ناصر کو اغوا کیا تھا۔

بعد میں ان کی لاشیں بھیوانی کے لوہارو میں ایک بولیرو سے جلی ہوئی حالت میں برآمد کی گئیں۔ اس معاملے میں گئو رکشکوں کے نام سامنے آئے تھے۔ جن میں ایک نام مونو مانیسر کا بھی نام تھا۔ تاہم مونو مانیسر نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا اور اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

اس معاملے کے حوالے سے مقتول کے لواحقین کی جانب سے مونو سمیت 5 افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ راجستھان پولیس کی جانب سے 8 ملزمان کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔ جس میں مونو مانیسر کا نام نہیں تھا لیکن کافی تفتیش کے بعد پولیس نے 6 جون کو عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں مونو مانیسر کا نام شامل کیا۔ اس کے بعد مونو مانیسر کو راجستھان پولیس کے کاغذات میں مفرور قرار دیا گیا۔ تب سے پولیس مونو مانیسر کی تلاش میں مصروف تھی۔