سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

گراؤنڈ رپورٹ: مظفر نگر فساد کے 10 سال بعد بھی نہ انصاف ملا، نہ امید!

مظفر نگر میں 2013 کے فرقہ وارانہ فسادات کو 10 سال ہو چکے ہیں۔ اتر پردیش اور ملک کی سیاست کی سمت و رفتار بدل دینے والے اس تشدد نے ویسٹ یوپی کے سماجی تانے بانے کو بھی تبدیل کر دیا تھا۔ اس دوران تقریباً 20 ہزار کنبوں کو اپنا گھر چھوڑ کر راتوں رات کھیتوں اور جنگلوں کے راستوں سے جان بچا کر بھاگنا پڑا اور ان میں سے نصف آج تک واپس نہیں لوٹے۔ اب ان کے گھر اور کھیت گاؤں کے دوسرے لوگوں نے اونے پونے داموں میں 100 روپے کے اسٹامپ پیپرس پر اپنے نام لکھوا لیا ہے۔ جنھوں نے اپنے گھر نہیں فروخت کیے وہ کھنڈر بن چکے ہیں۔ ایک دہائی میں ایسا کوئی بھی سامنے نہیں آیا جس نے ان کی گھر واپسی کی کوشش کی ہو۔ عصمت دری متاثرین بھی گمنامی کی زندگی جی رہی ہیں اور ملزمین کھلے گھوم رہے ہیں۔ اجتماعی عصمت دری کے صرف ایک معاملے میں ہی سزا ہو سکی ہے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخاب کے بعد تو کسی نے متاثرین کا حال بھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔

دہلی سے 130 کلومیٹر دور مغربی یوپی کا یہ ضلع ملک میں کھیتی کسانی اور آئرن انڈسٹری کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ 10 سال قبل 7 ستمبر کو برپا تشدد پڑوسی ضلع شاملی تک پھیل گیا تھا۔ تب کے اجڑے ہوئے لوگ آج تک ٹھیک سے بس نہیں پائے ہیں۔ ایسے ہی 150 متاثرہ کنبوں کی ایک بستی لوئی گاؤں میں ہے۔ یہ سبھی 3 کلومیٹر دور پھُگانا گاؤں میں رہتے تھے۔ 7 ستمبر کی شام کے اس منظر کو یاد کرتے ہوئے 40 سالہ گلفام کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’ہماری عورتیں اور بچے جان بچا کر کھیتوں اور جنگلوں کے راستوں سے بھاگے تھے، جنھیں کئی دنوں بعد ڈھونڈا گیا۔ گاؤں کے لوگوں نے ہمارے گھر نوٹری کے سامنے اسٹامپ پیپر پر دستخط کرا کر خرید لیے۔‘‘ 30 سالہ وسیم اس وقت انٹر کے طالب علم تھے اور اب ویلڈنگ کا کام کر کے اہل خانہ کی پرورش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’گاؤں میں موجود گھر کی قیمت ہمیں بس اتنی ملی جتنی کہ سونے کے عوض میں چاندی کی قیمت ہو۔ اُس وقت کی ریاستی حکومت نے 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا تو اس سے 150 گز زمین لے کر گھر بنایا۔ گاؤں کے کسی شخص نے ہمیں اپنے گھروں میں لوٹانے کی پہل نہیں کی۔‘‘

58 سالہ نافع دین اور ان کے تین دیگر بھائیوں کا کنبہ پھُگانا میں ہی رہتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’اس رات گاؤں میں 6 خواتین کے ساتھ عصمت دری ہوئی تھی۔ معاوضے کی رقم مقدمات میں خرچ ہو گئی، لیکن کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ دو سالوں سے تو مقدمات کا ہی پتہ نہیں ہے۔ ہمیں دو سال پہلے وکیل نے کورٹ میں آنے سے منع کر دیا تھا۔‘‘ لوئی سے 22 کلومیٹر دور کاکڑا گاؤں میں 43 سالہ شوقین اور ان کے پانچ بھائیوں نے اپنے مکانات محض 1.80 لاکھ روپے میں فروخت کر دیے۔ شوقین کہتے ہیں ’’میرے صرف ایک بھائی یامین کو ہی معاوضہ ملا۔‘‘ ایسی کہانیاں مظفر نگر اور شاملی کی تقریباً 50 بستیوں کی ہے جہاں فساد متاثرین مقیم ہیں۔

شاہ پور کے بسی پلڑا میں کٹبا گاؤں سے ہجرت کرنے والے 80 کنبے ہیں۔ 5 کلومیٹر دور کٹبا گاؤں مرکزی وزیر سنجیو بالیان کے گاؤں کٹبی سے جڑا ہے۔ یہاں سے 350 کنبوں نے ہجرت کی تھی۔ انہی میں سے ایک محبت علی بتاتے ہیں ’’جب ہم کام سے واپس گھر لوٹے تھے تو گولیاں چل رہی تھیں اور ہم بمشکل خواتین و بچوں کو لے کر جنگلوں کے راستے بھاگے تھے۔ 4-3 مہینے بعد گاؤں کے ایک ریٹائرڈ فوجی نے ہمیں گھر لوٹنے کو کہا جس کی بیٹی بھی گولی چلانے والوں میں شامل تھی۔ ہم جانا چاہتے تھے، لیکن وہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ 30 ہزار روپے دے رک فوجی نے ہی ہمارا مکان خرید لیا۔‘‘ فساد متاثرین پر فساد کا خوف اتنا زیادہ ہے کہ کوئی چاہے گا بھی تو یہ واپس اپنے گھر لوٹنا نہیں چاہیں گے۔ 30 سالہ طاہر حسن کا دو ٹوک کہنا ہے کہ ’’تین دن بعد ملٹری نے ہمیں گاؤں سے محفوظ نکالا اور پولیس نے مدد سے انکار کر دیا تھا۔ ہمارے لوگوں کی 6 لاشیں کئی دنوں بعد سڑی گلی ملی تھیں۔ اب بھلا ہم اس گاؤں میں کیسے جائیں۔‘‘ 37 سالہ گلزار کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دادی کی لاش کے ساتھ دو دن گھر میں قید رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں ’’گھر میں گھس کر میری دادی کو گاؤں کے لوگوں نے ہی گولی ماری تھی۔ اس گھر کا بھلا اب کیا کرنا؟‘‘

فساد متاثرین کی کالونیوں کی حالت خستہ ہے۔ یہاں رہنے والے اب مزدوری اور پھیری لگا کر اپنے کنبے کی پرورش کر رہے ہیں۔ خواتین گھر کے علاوہ کچھ پیسوں کے لیے محنت و مزدوری کرتی ہیں۔ مدرسوں کے علاوہ بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے۔ کچھ خواتین کمہاروں سے حقے کی چلم لاتی ہیں اور گلیوں میں بیٹھ کر اس پر تانبے کی تار بندی کرتی ہیں۔ 60 سالہ شمشاد بتاتے ہیں کہ ’’ہم پر حملے ہوئے۔ سامان لوٹا اور گھر جلا دیے۔ اب گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ بچوں نے غلطی کر دی۔ ہم تو آبا و اجداد کی وراثت سے بھی کٹ گئے اور سماج سے بھی۔ نہ ہماری بستیوں میں نالی، کھڑنجے ہیں اور نہ پینے کا پانی۔ 2014 کے بعد تو بلانے پر بھی سیاسی لیڈران ہمارے پاس نہیں آتے ہیں۔‘‘

اس سب سے الگ فسادات کے سبب بنے کوال گاؤں میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ 27 اگست 2013 کو یہاں کوال سے ہی جڑے ملک پورہ گاؤں کے سچن اور گورو نے بالادستی کی لڑائی میں شاہنواز قریشی چاقو گھونپ کر قتل کر دیا تھا۔ بھیڑ نے گاؤں میں ہی سچن اور گورو کو گھیر لیا اور پیٹ کر مار ڈالا تھا۔ دو تین دن کی کشیدگی کے بعد یہاں سب معمول پر آ گیا۔ پولیس کی کوششوں سے ہجرت کرنے والے دونوں طبقات کے لوگ بھی ہفتے بھر میں ہی لوٹ آئے تھے۔ یہاں ہندو اور مسلم یکساں تناسب میں ہیں۔ تب گاؤں کے پردھان مہندر سینی تھے اور اب محمد اسلام ہیں۔ پردھان کے دفتر میں ہی بیٹھے گاؤں کے سماجی کارکن روی شنکر سینی کہتے ہیں ’’وہ ایک عام واقعہ تھا، جسے فسادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہاں پہلے یا اس کے بعد کبھی کوئی واقعہ نہیں ہوا۔‘‘ محمد اسلام اپنے موبائل پر فرقہ وارانہ خیرسگالی کے طور پر حال ہی میں ہوئے کانوڑ یاتریوں کے کیمپ اور تین قتل کے کچھ دنوں بعد رام لیلا کی وہ تصویریں، ویڈیو دکھاتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہمارے گاؤں میں کچھ نہیں بدلا ہے۔ وہ منصوبہ بند فسادات تھے، جو یہاں سے 30-20 کلومیٹر دور گاؤں میں ہوئے۔‘‘ وہ یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بی جے پی کے اُس وقت کے رکن اسمبلی وکرم سینی کے تعاون سے پردھان بنے۔ فسادات میں قصوروار پائے جانے پر وکرم کی تین ماہ پہلے ہی اسمبلی رکنیت جا چکی ہے۔ وکرم سینی کی بیوی بھی مہندر سنگھ پہلے کوال کی پردھان رہ چکی ہیں اور مظفر نگر فسادات کے بعد وہ دو بار رکن اسمبلی بنے۔