سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

پی ایم مودی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ کی دو فریقی میٹنگ

جی-20 اجلاس کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا سرکاری دورۂ ہند آج سے شروع ہوا۔ وہ پیر کی صبح ہی راشٹرپتی بھون پہنچے جہاں ان کا رسمی استقبال کیا گیا۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس دوران ولی عہد کو گلے لگا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو بھی اس دوران محمد بن سلمان کے استقبال کے لیے موجود تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راشٹرپتی بھون میں استقبال کے بعد وزیر اعظم مودی اور سعودی ولی عہد نے حیدر آباد ہاؤس میں دو فریقی میٹنگ کی۔ اس دوران ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور این ایس اے اجیت ڈووال بھی وزیر اعظم کے ساتھ دکھائی دیے۔ میٹنگ کے بعد حیدر آباد ہاؤس میں منعقد ہند-سعودی اسٹریٹجک شراکت داری کونسل کی پہلی میٹنگ میں ہوئے سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔

دو فریقی میٹنگ کے بعد سعودی ولی عہد کا بیان بھی منظر عام پر آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں آپ کو جی-20 اجلاس کے مینجمنٹ اور مشرق وسطیٰ، ہند و یوروپ کو جوڑنے والے ’اقتصادی گلیارے‘ سمیت حاصل دیگر کامیابیوں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں، جس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے حقیقی شکل دینے کے لیے محنت سے کام کریں۔‘‘

دوسری طرف ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس میٹنگ کے بعد کہا کہ ’’آج کی ملاقات سے ہمارے تعلقات کو ایک نئی سمت ملے گی اور ہمیں مل کر انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کرتے رہنے کی ترغیب ملے گی۔ کل ہم نے ہندوستان، مغربی ایشیا اور یوروپ کے درمیان کوریڈور قائم کرنے کے لیے تاریخی شروعات کی ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ملک آپس میں جڑیں گے بلکہ ایشیا، مغربی ایشیا اور یوروپ کے درمیان اقتصادی تعاون، توانائی کی ترقی اور ڈیجیٹل روابط کو قوت ملے گی۔‘‘

پی ایم مودی نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان کے لیے سعودی عرب ہمارے سب سے اہم اسٹریٹجک شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ دنیا کی دو بڑی اور تیزی سے بڑھنے والی معیشتوں کی شکل میں ہمارا آپسی تعاون پورے علاقہ کے امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔ اپنی بات چیت میں ہم نے اپنی شراکت داری کو اگلی سطح پر لے جانے کے لیے کئی پیش قدمیوں کی شناخت کی ہے۔‘‘