سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

مہاراشٹر: ستارا میں دو طبقہ کے درمیان تشدد، انٹرنیٹ سروس بند

مہاراشٹر کے ستارا میں کشیدگی کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں دو طبقہ میں پتھراؤ اور آگ زنی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اس واقعہ میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ دراصل ستارا میں کچھ قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر پیر کی صبح دو گروپوں کے درمیان تصادم ہو گیا۔ پولیس نے ماحول دیکھتے ہوئے حکم امتناع نافذ کر دیا اور انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا۔

افسران نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ پسیسولی کے ایک شخص نے اتوار کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر کچھ قابل اعتراض پوسٹ کیے۔ اس سے لوگوں کا غصہ بھڑک گیا اور گروپ میں تصادم شروع ہو گیا۔ اس سے اتوار کی شب سے ہی یہاں کشیدگی والے حالات پیدا ہو گئے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیر شیخ کا کہنا ہے کہ ’’10 ستمبر کو پسیسولی میں ایک شخص نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کیا۔ اس پوسٹ کو لوگوں نے غلط سمجھا اور اس سے نظامِ قانون کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ستارا پولیس نے فوراً حالات پر رد عمل ظاہر کیا اور اسے کنٹرول میں لایا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ جہاں بھی ضرورت ہوئی، مناسب پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے اور حالات اب پرامن ہے۔ انھوں نے لوگوں سے محتاط رہنے کی گزارش بھی کی۔

سمیر شیخ نے ایک بیان میں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ’’لوگوں کو افواہوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ کسی بھی قانون اور نظام کے مسئلہ سے بچنے کے لیے سماج میں رنجش پھیلانے والے پیغامات کو سوشل میڈیا کے ذریعہ سے نشر نہیں کیا جانا چاہیے۔ محتاط رہیں اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ نظر آئے تو فوراً افسران سے رابطہ کریں۔‘‘

ستارا سے این سی پی رکن پارلیمنٹ نے پسیویلی میں ہوئے واقعات کو بہت افسوسناک اور تکلیف دہ بتایا۔ انھوں نے عوام سے صبر بنائے رکھنے اور افواہ پھیلانے والوں پر توجہ نہ دیتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انھوں نے جاننا چاہا کہ ایسی شرارت کون کر رہا ہے۔ لوگ بغیر تصدیق کیے مسیجز کو فاروارڈ کیوں کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن چھترپتی اودین راجے بھوسلے نے بھی عوام سے امن بنائے رکھنے اور جھوٹے میسجز میں نہ پھنسنے کی گزارش کی ہے۔ واقعات کو افسوسناک بتاتے ہوئے این سی پی کی ایگزیکٹیو چیف سپریا سولے نے لوگوں سے افواہوں کا شکار ہونے سے بچنے اور سماج میں خیر سگالی بنائے رکھنے میں مدد کرنے کی گزارش کی۔