سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

’جل جیون مشن میں 13 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ، بدعنوان افسران کو دیا گیا پروموشن‘، کانگریس کا مرکز پر حملہ

نئی دہلی: کانگریس نے جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کے ’جل جیون مشن‘ منصوبہ میں 13 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے جانچ کرانے کی جگہ اس گھوٹالے کو ظاہر کرنے والے دلت آئی اے ایس افسر اشوک پرمار کا استحصال کیا، ان کا ایک سال میں چار بار ٹرانسفر ہوا۔ جموں و کشمیر کے ایل جی کے ذریعہ انھیں بے عزت کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی گھوٹالے کے الزامات میں ملوث بدعنوان افسران کو بچایا گیا اور پروموشن (ترقی) دیا گیا۔

پیر کے روز نئی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس محکمہ مواصلات میں میڈیا اور پبلسٹی کے چیئرمین پون کھیڑا نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ایل جی منوج سنہا کی ناک کے نیچے یہ گھوٹالہ ہوا ہے۔ اس گھوٹالے میں ایل جی منوج سنہا اور مودی حکومت میں مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت پر شبہات کی سوئی جاتی ہے۔ مرکزی وزیر پر شک کی سوئی اس لیے جاتی ہے کیونکہ انھوں نے ایک وہسل بلووَر کو سزا دی اور بدعنوانی کے الزامات میں ملوث افسران کو بچایا۔

کھیڑا نے کہا کہ اس گھوٹالے کو انجام دینے کے لیے تکنیکی اور انتظامی منظوری کے بغیر ٹنڈر نکالا گیا۔ بے ضابطگیاں باہر نہ آئیں، اس کے لیے منصوبوں کا بٹوارا کیا گیا۔ کمپوزٹ ٹنڈر کی رسم کو چھوڑ دیا گیا۔ منصوبہ کے تحت تقریباً ہر ضلع میں ٹھیکیداروں کے ذریعہ گھٹیا کام کیا گیا۔ مختلف سطحوں پر بار بار بات چیت کے باوجود کسی ماہر صلاح کار کو مقرر نہیں کیا گیا۔

کھیڑا کا کہنا ہے کہ اپنی شکایت میں پرمار نے حیران کرنے والے انکشافات کیے ہیں، کہ ایل جی منوج سنہا نے 6 جون 2022 کو انھیں بغیر کسی غلطی کے پریشان کرنے اور بے عزت کرنے کے مقصد سے میٹنگ ہال سے باہر نکال دیا تھا۔ حکومت ہند کی ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کا لگاتار ٹرانسفر کیا گیا۔ قومی درج فہرست ذات کمیشن کو لکھے ایک خط میں پرمار نے جموں و کشمیر کے ایل جی اور چیف سکریٹری پر استحصال، دھمکی اور بدتمیزی کا الزام عائد کیا ہے اور ان کے لگاتار ٹرانسفر کی وجہ نسلی تفریق و تعصب کو قرار دیا ہے۔ کھیڑا نے کہا کہ یہ مودی حکومت کی دلت مخالف ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کھیڑا نے مودی حکومت سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ گھوٹالے کو ظاہر کرنے والے آئی اے ایس افسر کو کیوں پریشان کیا گیا اور ہدف بنایا گیا؟ اس گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ گھوٹالے کی بڑی مچھلی کہاں ہے؟ یہ لوٹا ہوا پیسہ کہاں گیا؟ وزارت داخلہ میں شکایتوں اور سی بی آئی جانچ کے مطالبہ کے باوجود گھوٹالے کی تفصیلی جانچ کے حکم کیوں نہیں دیے؟ مودی حکومت کسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے؟ ایک دلت آئی اے ایس افسر کے استحصال کے سنگین الزامات کے باوجود قومی درج فہرست ذات کمیشن نے ایل جی کو طلب کیوں نہیں کیا؟ مودی حکومت نے اشوک پرمار پر جھوٹے الزامات لگائے کہ وہ کانٹریکٹ کمیٹی کے چیف بننا چاہتے تھے، لیکن اس کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے۔ کیا یہ ایک ’وہسل بلووَر‘ کا استحصال نہیں ہے؟