سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

اتر پردیش میں لگاتار بارش سے معمولات زندگی بے حال، کئی گھروں میں گھسا پانی

اتر پردیش کے کئی علاقوں میں لگاتار جاری بارش سے عام زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے، جس سے سرکاری انتظام کی قلعی کھل گئی ہے۔ لکھنؤ میں گزشتہ 14 گھنٹے سے لگاتار بارش ہو رہی ہے۔ کبھی تیز اور کبھی رم جھم بارش سے شہر کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے کی سڑکوں میں دو سے تین فیٹ تک پانی بھر گیا ہے۔ بیشتر کالونیوں میں پانی گھروں میں گھس گیا ہے۔

راجدھانی کی اہم سڑکوں پر آبی جماؤ کے سبب زبردست جام کا بھی نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کیب سروس کا سسٹم منہدم ہو گیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں قید ہو گئے ہیں۔ لکھنؤ کے علاوہ کانپور میں بھی اتوار سے بارش کا دور جاری ہے، جس سے پورا شہر پانی پانی ہو گیا ہے۔ مراد آباد میں ریلوے ٹریک پر پانی بھر گیا ہے۔ ابھی محکمہ موسمیات نے مزید بارش کی تنبیہ دیتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔

موسم کی مار کو دیکھتے ہوئے لکھنؤ ضلع کے سبھی اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کڑکنے اور موسلادھار بارش کے مدنظر لکھنؤ میں کوئی بھی شخص بلاضرورت باہر نہ گھومے۔ غیر محفوظ عمارتوں اور درختوں کے رابطے میں بھی آنے سے لوگوں کو بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضلع کے باشندوں کو اپنے گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور احتیاط کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

لکھنؤ کے علاوہ مراد آباد اور بارابنکی میں بھی اسکولوں کی تعطیل کر دی گئی ہے۔ ریاست میں بارش کا لگاتار تیسرا دن ہے۔ اس سے پہلے اتوار کو بھی لکھنؤ، میرٹھ، ایودھیا، مراد آباد، غازی آباد اور کانپور سمیت کئی شہروں میں زوردار بارش ہوئی۔ مراد آباد میں اتنا پانی برسا کہ ریلوے ٹریک تک ڈوب گیا۔ سڑکوں پر پانی بھر گیا۔ ریلوے نے 9 سے زیادہ ٹرینوں کو کینسل کر دیا گیا۔ کئی مقامات پر درخت گرے اور بیشتر سڑکوں پر پانی بھر گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کے بعد بارش میں کچھ کمی آئے گی اور درجہ حرارت بڑھے گا۔ موسمیاتی مرکز کے سینئر سائنسداں اتل کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ اب پیر سے لکھنؤ میں بارش کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔ حالانکہ آس پاس کے کئی ضلعوں میں گرج اور چمک کے ساتھ تیز بارش کے لیے الرٹ جاری ہے۔

ابھی شمالی مدھیہ پردیش کے ضلعوں میں سائیکلونک سرکولیشن بنا ہوا ہے۔ اسی کے سبب اتر پردیش کے کئی حصوں میں گرج اور چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش درج ہو رہی ہے۔ اتل کمار سنگھ کے مطابق 12 ستمبر تک موسم ایسا ہی رہے گا۔ 13 ستمبر سے مانسون کی سرگرمی میں کمی آئے گی۔ مغربی علاقوں میں بارش کی تیزی گھٹے گی۔

محکمہ موسمیات نے لکھنؤ، لکھیم پور کھیری، سیتاپور، ہردوئی، کانپور، بارابنکی، علی گڑھ، متھرا، ہاتھرس، آگرہ، فیروز آباد، ایٹاوا، اوریا، بریلی، پیلی بھیت، شاہجہاں پور، سنبھل، بدایوں، جالون، حمیر پور، مہوبا، جھانسی، للت پور اور آس پاس موسلادھار بارش کا یلو الرٹ جاری کیا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بارش کے مدنظر متعلقہ ضلعوں کے افسران کو پوری ذمہ داری سے راحتی کام چلانے کی ہدایت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ افسران علاقے کا دورہ کر راحتی کام پر نظر رکھیں۔ بارش سے متاثر لوگوں کو ضروری راحتی امداد بلاتاخیر تقسیم کریں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ آبی جماؤ کی حالت میں پانی نکالنے کے لیے بہتر انتظام کیا جائے۔ ندیوں کے آبی سطح پر ہمیشہ نگرانی کی جائے۔ فصلوں کو ہوئے نقصان کا اندازہ کر ضروری کارروائی کی جائے تاکہ متاثرہ کسانوں کو اصول کے مطابق معاوضہ کی رقم دی جا سکے۔