سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

گورنر بنگال کے آدھی رات کے پیغام کا معمہ ہنوز حل طلب

کولکاتا: مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس کی طرف سے ہفتہ کو نصف شب میں ریاست اور مرکزی حکومت کو بھیجے گئے خفیہ پیغامات کے مواد پر 14 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی معمہ حل طلب ہے۔ آدھی رات کے کچھ منٹوں کے اندر میڈیا والوں کو معلوماتی پیغام بھیجنے کی اطلاع دینے کے بعد راج بھون نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ریاستی سکریٹریٹ کے اہلکار بھی اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ رہے ہیں۔

کئی وجوہات کی بناء پر پیغام کے ارد گرد کا معمہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے، یہ ریلیز ایسے وقت میں بھیجی گئی ہے جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں موجود تھیں۔

دوسری بات، ہفتہ کی رات، اگرچہ راج بھون نے تصدیق کی کہ دو پیغامات میں سے ایک مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھیجا گیا ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ مرکزی حکومت کے کس محکمے کو یہ پیغام بھیجا گیا ہے۔

ہفتہ کی دوپہر کو جب بوس سے ریاستی یونیورسٹی کے مسائل پر سیکرٹریٹ کے ساتھ ان کی حالیہ تنازعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو گورنر نے جواب دیا تھا ’’آج آدھی رات کا انتظار کریں۔”

ہفتہ کی شام چیف سکریٹری ایچ کے دویدی راج بھون گئے اور بوس کے ساتھ میٹنگ کی جو ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ میٹنگ کے بعد نہ تو گورنر اور نہ ہی چیف سکریٹری نے زیر بحث مسئلہ کے بارے میں کوئی اطلاع دی۔