سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

خود ساختہ ’وشواگرو‘ منافقت کے معاملہ میں بہت آگے نکل چکے ہیں! کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے اتوار کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے جی-20 اور عالمی سطح پر دیگر سربراہی اجلاسوں میں بیانات منافقت سے پر ہیں، نیز مودی کی ‘گلوبل ٹاک’ ‘لوکل واک’ کے بالکل برعکس ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور سابق مرکزی وزیر ماحولیات جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا، ’’جی-20 اور عالمی سطح پر دیگر سربراہی اجلاسوں میں وزیر اعظم کے بیانات ان کی منافقت کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’ہندوستان کے جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو تباہ کر کے اور قبائلیوں اور جنگل میں رہنے والی دیگر برادریوں کے حقوق کو مجروح کرکے ماحولیات، آب و ہوا کی کارروائی اور مساوات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اس کی (گلوبل ٹاک) عالمی گفتگو اور ملک میں ان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام (لوکل واک) بالکل برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ماحولیات کی اہمیت کے بارے میں بڑے اور کھوکھلے بیانات دینے کے لیے جی-20 سربراہی اجلاس کا استعمال کیا۔ جے رام رمیش کے بیان میں جی-20 ماحولیات اور آب و ہوا کے پائیداری اجلاس میں پی ایم مودی کے تبصروں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں مودی عالمی تقریبات میں آب و ہوا کی کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہیں مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت بڑے پیمانے پر ہندوستان کے ماحولیاتی تحفظات کو ختم کر رہی ہے اور جنگلات پر منحصر سب سے زیادہ کمزور کمیونٹیز کے حقوق چھین رہی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ خود ساختہ وشوا گرو (عالمی رہنما) منافقت کے معاملے میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے جی-20 سربراہی اجلاس کو ماحول کی اہمیت کے بارے میں بڑے اور خالی بیانات دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔

جے رام رمیش نے کہا ’’آب و ہوا کے عمل کو انتودیا کی پیروی کرنا چاہیے یعنی ہمیں معاشرے کے آخری آدمی کی ترقی کو یقینی بنانا چاہیے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مودی سرکار بڑے پیمانے پر ہندوستان کے ماحول کو تباہ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ جنگلات پر منحصر سب سے کمزور کمیونٹیز کے حقوق بھی چھین رہی ہے۔‘‘

رمیش نے کہا کہ نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) – جو پہلے طاقتور تھی اور اپنے طور پر فیصلے لینے کی صلاحیت رکھتی تھی – کو مکمل طور پر وزارت ماحولیات کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔

عدالتوں کے ذریعے نافذ کیے جانے والے جرمانے کی فراہمی کے بجائے، نیا ایکٹ حکومتی اہلکاروں کو جرمانے عائد کرنے کا ذمہ دار بناتا ہے۔ منافع کی تقسیم کے دفعات میں مختلف نرمی کی گئی ہے۔ اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچے گا جن کے پاس حیاتیاتی تنوع کا روایتی علم ہے۔ اس کا تجارتی استحصال کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔

یہ ایکٹ مودی حکومت کو ملک بھر میں حیاتیاتی تنوع کی تباہی کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ مزید یہ کہ جنگلات (کنزرویشن) ترمیمی ایکٹ 2023 کے برابری پر زور دینے کے دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔

جے رام رمیش نے مزید کہا کہ یہ ایکٹ ملک کے قبائلیوں اور جنگل میں رہنے والی دیگر برادریوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا، کیونکہ یہ 2006 کے جنگلات کے حقوق کے قانون کو کمزور کرتا ہے۔ یہ مقامی برادریوں کی رضامندی اور بڑے علاقوں میں جنگل کی صفائی کی ضرورت کو ختم کرتا ہے۔

قومی کمیشن برائے شیڈولڈ ٹرائب (این سی ایس ٹتی) نے 2022 میں اس پر اعتراض کیا تھا۔ شمال مشرق میں قبائلی برادریاں خاص طور پر کمزور محسوس کر رہی ہیں کیونکہ ایکٹ ملک کی سرحدوں کے 100 کلومیٹر کے اندر کی زمینوں کو تحفظ کے قوانین کے دائرے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔

این ڈی اے کی حکومت ہونے کے باوجود، میزورم نے ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی ہے اور ناگالینڈ سے جلد ہی ایسا کرنے کی امید ہے۔

نیا قانون ہندوستان کے 25 فیصد جنگلاتی رقبے کو تحفظ سے ہٹاتا ہے، جو ٹی این گوداورمن بمقابلہ حکومت ہند میں سپریم کورٹ کے 1996 کے فیصلے کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اس سے مودی حکومت کے لیے جنگلات کا استحصال کرنا اور انہیں چنندہ سرمایہ دار دوستوں کے حوالے کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کارروائیوں کی وجہ واضح ہے کہ پی ایم کے ساتھیوں کی ہندوستان کے امیر اور حیاتیاتی تنوع والے جنگلات کا استحصال کرنے پر نظر ہے۔

وہ پام آئل کے باغات قائم کرنے کے لیے شمال مشرق کے حیاتیاتی متنوع جنگلات کو صاف کرنا چاہتے ہیں اور کان کنی شروع کرنے کے لیے وسطی ہندوستان کی پہاڑیوں اور جنگلات کو کاٹنا چاہتے ہیں، جن میں قبائلی برادریوں کے لیے مقدس مانے جانے والے جنگلات بھی شامل ہیں۔