سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

منی پور تشدد کی رپورٹ شائع کرنے پر صحافیوں کے خلاف مقدمہ

سپریم کورٹ نے بھارتی صحافیوں کی تنظیم ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کی عرضی پر بدھ 6 ستمبر کو ہنگامی سماعت کرتے ہوئے ہوئے اس کے چار اراکین کے خلاف کسی بھی طرح کی پولیس کارروائی پر فوری روک لگانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

منی پور کی بی جے پی حکومت نے ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے چار عہدیداروں کے خلاف ‘دو فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے’سمیت کئی الزامات کے تحت دو کیس دائر کیے تھے۔ منی پور کے وزیر اعلی این بیرین سنگھ نے کہا تھا کہ ریاست میں ‘تشدد کے لیے مشتعل کرنے’ کے الزام میں گلڈ کے صدر اور تین اراکین کے خلاف کیس دائر کیے گئے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف ایک دوسرا کیس ہتک عزت کے سلسلے میں بھی دائر کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے اس حوالے سے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چاروں صحافیوں کو عارضی راحت دے دی۔

پریس گلڈ آف انڈیا کے اراکین کے خلاف منی پور حکومت کی جانب سے مقدمہ درج کرانے کی بھارت کی متعدد صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کہ تشدد زدہ منی پور میں امن وامان بحال کرنا ریاستی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے اس وقت وہ حقائق کو کچلنے کی قصداً کوشش کررہی ہے۔ وہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حقائق کو منظر عام پر لانے والوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے پریس گلڈ آف انڈیا کی کوششوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بیرین سنگھ حکومت کا اقدام صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش ہے۔ جس کی پرزور مذمت کی جانی چاہئے۔ دہلی یونین آف جرنلسٹس نے بھی منی پور حکومت کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ اس نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ چاروں صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر فوراً واپس کی جائے۔ پریس کلب آف ممبئی، انڈین وومن پریس کارپس نے بھی صحافیوں کے خلاف کارروائی کی مذمت کی ہے۔

پریس گلڈ آف انڈیا کے عہدیداروں سیما گوہا، سنجے کپور، بھارت بھوشن اور اس کی صدر سیما مصطفی نے اگست کے پہلے ہفتے میں منی پور کا دورہ کیا اور متعدد صحافیوں، سول سوسائٹی کے اراکین، تشدد سے متاثرہ خواتین، قبائلی رہنماوں اور سیکورٹی فورسز کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اپنی تفتیش کی بنیاد پر 24صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ 2ستمبر کو جاری کی لیکن اس کے بعض نتائج پر منی پور حکومت نے سخت اعتراض کیا اور چاروں صحافیوں کے خلاف کیس دائر کردیا۔

دراصل رپورٹ شائع ہونے کے بعد منی پور کے ایک شخص نے شکایت کی کہ رپورٹ میں جس جلتے ہوئے مکان کو کوکی قبیلے کے ایک شخص کا بتایا گیا ہے وہ ریاستی حکومت کے ایک محکمے کا دفتر تھا۔ ایڈیٹرز گلڈ نے اپنی بھول تسلیم کرتے ہوئے ترمیم شدہ رپورٹ ایکس پر شائع کی۔ لیکن وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ نے پریس کانفرنس طلب کرکے ان صحافیوں پر کیس دائر کرنے کا اعلان کردیا۔

رپورٹ میں گلڈ نے تشدد کے دوران ریاست کی قیادت پر جانبداری کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک فریق کا ساتھ دیا اور اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ رپورٹ کے مطابق”آج حال یہ ہے کہ ریاستی دارالحکومت امپھال میں اب ایک میتئی سرکار، میتئی پولیس اور میتئی بیوروکریسی ہے اور پہاڑوں میں رہنے والے کوکی قبائل کو ان پر ذرا بھی بھروسہ نہیں ہے۔”

رپورٹ میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ منی پور میں تشدد کے دوران ریاست کے صحافیوں نے یک طرفہ رپورٹیں لکھیں، جنہیں ان کے مدیران نے مقامی انتظامیہ، پویس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ بات کرکے دوبارہ تصدیق نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق حالانکہ تشدد کی وجہ سے یہ ممکن بھی نہیں تھا۔

منی پور میں میڈیا کے منظر نامے کا ذکر کر تے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ میڈیا ادارے میتئی اکثریتی علاقے امپھال میں ہیں اور تشدد کے دوران یہ "میتئی میڈیا”میں تبدیل ہوگیا تھا۔انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے صحافیوں کے لیے اپنے دفتر سے رابطہ کرنا ممکن نہیں تھا۔لیکن اگر ان کی رپورٹ کسی طرح پہنچ بھی جاتی تھی تو اخبارات اس کے مخصوص حصوں کو ہی اخبارات استعمال کرتے تھے۔