سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

سنگھ آئین میں دیے گئے ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتا ہے، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا بیان

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے ناگپور میں کہا کہ سماج میں موجود امتیازات کو دور کرنے کے لیے ریزرویشن بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سماجی نظام میں ہم نے اپنے ہی انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے ان کی پرواہ نہیں کی اور یہ تقریباً 2000 سال سے ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’جب تک ہم انہیں برابری فراہم نہیں کرتے، کچھ خاص اقدامات کرنے ہوں گے۔ اور میرا ماننا ہے کہ ان اقدامات میں سے ایک ریزرویشن ہے۔ ریزرویشن اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک کہ اس طرح کا امتیاز ہو۔ سنگھ آئین میں دیے گئے ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘‘

موہن بھاگوت نے کہا کہ ریزرویشن نہ صرف مالی یا سیاسی مساوات کو یقینی بنانا ہے بلکہ عزت دینا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے کے کچھ طبقے جنہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے 2000 سالوں سے مسائل کا سامنا ہے تو پھر ہم (جن کو امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا) مزید 200 سال تک کچھ مسائل کا سامنا کیوں نہیں کر سکتے؟

خیال رہے کہ موہن بھاگوت نے کچھ دن پہلے خاندانی نظام پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ پوری دنیا میں خاندانی نظام ختم ہو رہا ہے لیکن ہندوستان اس بحران سے بچ گیا ہے کیونکہ ‘سچائی’ اس کی بنیاد ہے۔ موہن بھاگوت نے ناگپور میں بزرگ شہریوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری ثقافت کی جڑیں سچائی پر مبنی ہیں، حالانکہ اس ثقافت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ دنیاوی لذتوں کی تکمیل کا رجحان بڑھ رہا ہے اور کچھ لوگوں کی طرف سے ثقافتی مارکسزم کے طور پر اپنے خودغرض فلسفے کے ذریعے اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔