سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

انڈیا-بھارت تنازعہ: ’نام بدلنے کی درخواست ملنے کے بعد ہم غور کریں گے‘، اقوام متحدہ کا بیان

ملک میں اس وقت انڈیا-بھارت تنازعہ عروج پر ہے۔ جب سے جی-20 کی عشائیہ تقریب کے لیے صدر جمہوریہ کے ذریعہ بھیجے گئے دعوت نامہ میں ’پریسیڈنٹ آف انڈیا‘ کی جگہ ’پریسیڈنٹ آف بھارت‘ لکھے جانے کی خبر سامنے آئی ہے، انڈیا کا نام بدل کر بھارت کیے جانے کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ ان قیاس آرائیوں کے درمیان اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ کسی ملک کا نام بدلنے کا کیا عمل ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جب ہمیں نام بدلنے کی درخواست ملتی ہے، اس کے بعد ہی نام بدلا جا سکتا ہے۔ دراصل میڈیا کے ذریعہ اس سلسلے مین سوال اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیرس کے نائب ترجمان فرحان حق سے پوچھا گیا تھا۔ انھوں نے اس سلسلے میں ترکیے کی مثال پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ وہاں کی حکومت نے نام بدلنے کو لے کر ہمیں رسمی طور پر درخواست بھیجی تھی، جس کے بعد ہی نام بدلا گیا۔ اگر ہمیں (انڈیا کے تعلق سے) درخواست ملتی ہے تو ہم اس پر غور کریں گے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن پارٹیاں الزام عائد کر رہی ہیں کہ مرکزی حکومت ملک کے نام سے انڈیا ہٹا کر صرف بھارت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حالانکہ حکومت نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا ہے۔ انڈیا-بھارت تنازعہ کے درمیان وزیر اعظم مودی نے 6 ستمبر کو اپنے وزراء سے کہا کہ وہ بھارت نام کو لے کر جاری تنازعہ پر تبصرہ کرنے سے پرہیز کریں۔