سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

سخت محنت و لگن سے فوزیہ جہاں بنی سول جج، خاندان کا نام کیا روشن

تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے انسان ترقی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی تعلیم کی بدولت قوم کی بیٹیاں اپنے ملک اور خاندان کا نام روشن کر رہی ہیں۔ حال ہی میں اتر پردیش میں جج کے امتحان ’پی سی ایس جے‘ کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے جس میں غازی آباد کی رہنے والی فوزیہ جہاں نے 76ویں رینک حاصل کر اپنے خاندان کا سر فخر سے اونچا کر دیا ہے۔

معاشی تنگی کی وجہ سے فوزیہ جہاں کو مہنگا ٹیوشن نہیں ملا، لیکن جب ارادے مضبوط اور حوصلے بلند ہوں تو مشکل سے مشکل ترین راستے سخت محنت و لگن کے سامنے پست ہو جاتے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے فوزیہ جہاں نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو کامیاب بنانے میں والدین کا اہم کردار ہوتا ہے، جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ناکامی پر لوگ آپ پر طرح طرح کے تبصرے کرتے ہیں، باتیں بناتے ہیں، ایسے وقت میں والدین ہی اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

فوزیہ نے بتایا کہ اگر آپ کے والدین آپ کے ساتھ ہیں تو آپ مضبوط ہیں۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لڑکیوں کو اس لیے آگے پڑھنے کا موقع نہیں مل پاتا کیوں کہ والدین خراب ماحول کی وجہ سے ڈرتے ہیں لیکن اگر ہمارے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ اور والدین کا ساتھ ہو تو ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہئے۔

اپنی تعلیم کے تعلق سے فوزیہ نے بتایا کہ انہوں نے 10ویں اور 12ویں ٹھاکر دوارا بالیکا ودیالیہ سے کی اور ذاکر حسین دہلی کالج مارننگ سے بی کام آنرس کیا۔ 2021 میں ایل ایل بی ماڈرن ڈگری کالج دوہائی سے مکمل کی اور ایک سال گریما انسٹی ٹیوٹ سے کوچنگ لی۔ اسی درمیان امتحان کا نوٹیفکشن آگیا تھا اور میں اس کی تیاریوں میں جی جان سے لگ گئی۔ فوزیہ کا کہنا ہے کہ ’’میں نے ملازمت کرتے ہوئے امتحان کی تیاری کی۔ آپ کو کتنے گھنٹے پڑھنا ہے، یہ میرے لیے معنی نہیں رکھتا۔ مجھے جب بھی وقت ملتا تھا میں اپنے مقصد کو سامنے رکھ کر پڑھائی کرتی تھی۔ کتابوں کے علاوہ یوٹیوب سے بھی میں کلاس لیا کرتی تھی۔‘‘ فوزیہ نے اپنی کامیابی کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی محنت پر یقین رکھو اور اپنا کام 100 فیصد کرو، کامیابی ضرور ملے گی۔

فوزیہ کے والد سکندر میرٹھ روڈ پر ٹائر پنچر لگانے کا کام کرتے ہیں جبکہ ان کی والدہ گھیریلو خاتون ہیں۔ فوزیہ کے والدین ناخواندہ ہیں، اس کے باوجود انہوں نے فوزیہ کو تعلیم یافتہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ فوزیہ کے تین بھائی بہن ہیں۔ سب سے چھوٹا بھائی 12ویں جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ ایک بہن بی اے میں ہے، جبکہ بڑا بھائی ٹیکس ایڈوکیٹ ہے۔ فوزیہ کی کامیابی پر والد سکندر بہت خوش ہیں اور لوگوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔ گھر پر مبارکباد دینے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔ فوزیہ کے والد کا کہنا ہے کہ ہماری بیٹی نے جج بن کر ہمارا نام روشن کیا ہے۔