اساتذہ تقرری گھوٹالہ: کمرہ عدالت میں سخت پوچھ تاچھ کرنے کے بعد جج نے ترنمول کانگریس کے جیل میں بند ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ کو چائے پلائی

عدالت کے ذرائع کے مطابق تقریباً 3.30بجے، مانک کو جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسے دیکھ کر جج نے پوچھا کہ آپ کو 2016 کی بھرتی کے عمل کے بارے میں کیا معلومات ہے؟

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے اساتذہ تقرری گھوٹالہ میں جیل میں بند ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ سے کمرہ عدالت میں سخت سوالات کرنے کے بعد چائے پیش کش کی اور سچائی کو سامنے لانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔

کانگریس کے ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ سے کمرہ عدالت میں سخت سوالات کرنے کے بعد چائے پیش کش کی اور سچائی کو سامنے لانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔


عدالت کے ذرائع کے مطابق تقریباً 3.30بجے، مانک کو جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسے دیکھ کر جج نے پوچھا کہ آپ کو 2016 کی بھرتی کے عمل کے بارے میں کیا معلومات ہے؟


مانک نے جواب دیا کہ میں جیل میں ہوں۔ میرے پاس کوئی معلومات یا دستاویزات نہیں ہیں۔ میں اس لیے یہاں آیا ہوں جو مجھے یاد ہے وہی کہہ سکتا ہوں۔


جسٹس: سلیکشن کمیٹی 2016 میں بھرتی کے عمل کے لئے بنائی گئی تھی؟
مانک:جی ہاں مگر یہ فیصلہ کونسل کا تھا۔


جسٹس: کونسل کے سابق صدر کی حیثیت سے آپ کے پاس کیا معلومات ہیں بھرتی کے عمل 2016 کا نتیجہ کس نے جاری کیا؟
مانک: میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ خاص طور پر اس سوال کا جواب میرے لیے واضح نہیں ہے۔ بھرتی کے عمل کی کل تعداد مختلف محکموں نے مل کر بنائی ہے۔


جسٹس: کیا نتائج کی تیاری کے لیے کسی بیرونی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں؟
مانک: یہ سارا عمل بورڈ کے زیر انتظام ہے۔ لیکن ہاں، ایک کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ لیکن اب اس کا نام یاد نہیں رہا۔
جسٹس: ایس باسو رائے اینڈ کمپنی نامی فرم کے بارے میں سنا ہے؟
مانک: ہاں، اس قسم کا نام سنا ہے۔


جسٹس: بطور صدر آپ کے دور میں تقرری کے عمل سے متعلق جو شکایات سامنے آئیں، کیا وہ درست ہیں؟
مانک: اہلیت کا امتحان لیا گیا۔ تب کسی نے شکایت نہیں کی۔ ایسی کوئی رپورٹ میرے علم میں نہیں آئی۔
جسٹس: کیا آپ تصدیق کر سکتے ہیں کہ اس بھرتی کے عمل میں ریزرویشن پالیسی پر عمل کیا گیا؟
مانک: جہاں تک مجھے یاد ہے یہ قانون کے مطابق تھا۔


جج: ٹھیک ہے۔ اب میں اور کچھ نہیں جانتا۔ آپ نے جو بیان دیا ہے اس پر دستخط کریں اور چلے جائیں۔
مانک: لیکن میں نے جو کہا اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ میں نے جو سوچا وہ کہا۔ لیکن جانے سے پہلے میری ایک درخواست ہے۔ اس سے متعلق کسی بھی صورت میں مجھے کال کریں۔ 15 منٹ پہلے کہنا چاہیے تھا۔ میں آئوںگا بعد میں میرے خلاف جو بھی کارروائی ہوگی، میں اسے قبول کروں گا۔
مانک (توقف کرتے ہوئے): میں آپ کو سچ بتانا چاہتا ہوں۔ سچ آسان ہے، سچ خوبصورت ہے۔


جسٹس: کیا کچھ آپ کے خلاف ہوا؟
مانک: جب یہ ٹیسٹ لیا جانا تھا تو کوئی نہیں تھا۔ میں نے دروازے پر دستک دی۔ کسی نے مدد نہیں کی۔ میں آج عدالت میں اسی حالت میں ہوں۔


ہائی کورٹ کے شیرف کو جسٹس: وہ ایک معزز آدمی ہے۔ چائے پلائیں دیکھیں کہ غیر متوقع واقعات رونما نہ ہوں۔ عدالت صرف سچ جاننا چاہتی ہے۔ انہوں نے تعاون کیا ہے۔


سوال و جواب کے سیشن کے اختتام پر جج مانک کو ڈپٹی شیرف کے کمرے میں لے گئے اور اسے چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس دینے کو کہا۔ اس کے بعد جج نے اچانک تبصرہ کیا کہ دسویں چکر میں بھگوان بھی بھوت بن جاتا ہے۔ یہ مانک بھٹاچاریہ ہمارے ڈپٹی شیرف کے استاد تھے۔