افغانستان کی خواتین کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے: اقوام متحدہ

افغانستان حکام نے حال ہی میں اگلی اطلاع تک ملک بھر میں طالبات کے لیے یونیورسٹیوں کو بند کر دیا ہے اور لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول میں حصہ لینے سے روک دیا ہے

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے افغانستان کی حالت کا جائزہ زمینی سطح پر لینے کے لئے چار دنوں کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس ملک کو یوں ہی نہیں چھوڑنا چاہئے اور کئی بنیادی حقوق سے محروم وہاں کی جدوجہد کرنے والی خواتین کو عالمی حمایت اور مدد فراہم کرائی جانی چاہئے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کی طرف سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ محمد، اقوام متحدہ کی صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے یونٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس اور اقوام متحدہ کے سیاسی، امن سازی کے امور اور امن آپریشنز محکمہ کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل خالد خیاری نے افغانستان کا چار روزہ دورہ کیا ہے۔

یہ دورہ وہاں کی صورت حال کا جائزہ لینے، حقیقی حکام کو شامل کرنے اور افغانستان کے رہنے والے عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کی یکجہتی کو اجاگر کرنے کے لیے اہم ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے حکام نے کابل اور قندھار کے حکام کے ساتھ میٹنگ کی اور حال ہی میں قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کے لئے خواتین کے کام کرنے پر پابندی لگانے کے فیصلے کے بارے میں خبردار کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ ایک ایسا اقدام ہے جو لاکھوں کمزور افغانوں کی مدد کرنے والی کئی تنظیموں کے کام کو کمزور کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ افغانستان حکام نے حال ہی میں اگلی اطلاع تک ملک بھر میں طالبات کے لیے یونیورسٹیوں کو بند کر دیا ہے اور لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کی آمد و رفت کی آزادی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔زیادہ تر کام کے شعبوں سے خواتین کو باہر رکھا گیا ہے۔ خواتین کو پارک، جم اور حمام کا استعمال کرنے پر بھی پابندی ہے۔

محترمہ آمنہ نے کہا، ”میرا پیغام بہت واضح ہے۔ یہ پابندیاں افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کو ان کے گھروں تک محدود کر دیتی ہے، ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور کمیونٹیز کو ان کی خدمات سے محروم کرتی ہیں۔“

محترمہ باہوس نے کہا، ”ہم نے غیر معمولی مزاحمت دیکھی ہے، افغانستان کی خواتین نے ہمیں ان کی ہمت اور عوامی زندگی سے مٹائے جانے کے خلاف مزاحمت کرنے کے اپنے جذبے سے تعارف کرایا۔ وہ اپنے حقوق کے لئے وکالت کرنا اور لڑنا جاری رکھیں گی اور ایسا کرنے میں ان کی حمایت ضرور کرنی چاہیے۔“