سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

پیشۂ صحافت کی سنگلاخ راہیں اور صحافیوں کا مسئلۂ تحفظ

جس طرح دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے سامنے مسائل ہوتے ہیں، اسی طرح صحافیوں کو بھی انگنت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے—–

ڈاکٹر یامین انصاری

کسی بھی جمہوری ملک کے چار ستون نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس نظام کا چوتھا ستون میڈیا کو کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ چوتھے ستون یعنی صحافت سے وابستہ لوگ بھی نظام کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ یہاں میڈیا کے نظام کا حصہ ہونے کا مطلب یہ قطعی نہیں لیا جانا چاہئے کہ وہ ملک کے نظام یا حکومت کے مطابق کام کرے۔ کیوں کہ صحافت کوئی پیشہ نہیں، بلکہ ایک خدمت ہے، ایک مشن ہے۔ ایک سچا صحافی وہ ہے جو حق بینی اور حق گوئی کا علمبردار رہے۔

اس مضمون میں در اصل بحث اس پر نہیں کرنا ہے کہ صحافت کے اغراض و مقاصد کیا ہیں، اس کی اقدار و روایات کیا ہیں، بلکہ گفتگو یہ کرنی ہے کہ ملک و قوم کی خدمات انجام دینے والے صحافیوں کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ جس طرح دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے سامنے مسائل ہوتے ہیں، اسی طرح صحافیوں کو بھی انگنت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کا مسئلہ

کسی جمہوری ملک میں جس طرح پہلے تین ستونوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے، اتنا مضبوط چوتھے ستون یعنی میڈیا یا اس سے وابستہ افراد کے تحفظ کو نہیں بنایا گیا۔ کئی مرتبہ جھگڑے فساد، جنگ و جدال اور مختلف قسم کے خطرات کے درمیان کام کرنے والے صحافی بے یار و مددگار نظر آتے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر حملے کو نظام پر براہ راست حملہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پہلو پر دنیا بھر کی تنظیمیں اور حکومتیں گفتگو کرتی ہیں اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مختلف رائے اور مشورے سامنے آتی ہیں، مگر زمینی سطح پر ایسا کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ بقول زبیر رضوی؎

سرخیاں اخبار کی گلیوں میں غل کرتی رہیں
لوگ اپنے بند کمروں میں پڑے سوتے رہے

دنیا بھر کے صحافیوں کے تحفظ، آزادانہ صحافت کو یقینی بنانے اور انھیں بنیادی حقوق و انصاف کی فراہمی کے لئے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال 2؍ نومبر کو عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اس سال صحافیوں کی سلامتی کے لئے ایکشن پلان کی دسویں سالگرہ بھی منارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2006ء سے 2020ء تک رپورٹنگ اور معلومات عوام تک پہنچانے کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 1200؍ سے زائد صحافی ہلاک ہوئے، جبکہ ہر دس میں سے نو معاملوں میں قاتلوں کو سزا نہیں ملی۔ اس میں خواتین صحافیوں کی حالت اور بھی دگرگوں ہے۔

صحافی شیریں ابو عاقلہ کا قتل

مئی 2022ء میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح اسرائیلی فوجیوں نے الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی انکشاف ہوا کہ شیریں کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے نہیں، بلکہ اسرائیلی فوج نے ہی قتل کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک عالمی سروے کے مطابق 73؍ فیصد خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھیں صحافتی فرائض کے دوران دھمکیوں اور توہین آمیز رویہ کا سامنا رہتا ہے۔

یونیسکو کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ 2016ء سے 2020ء کے دوران تقریباً 400؍ صحافیوں کو ان کی ڈیوٹی کے وقت قتل کیا گیا اور 2020ء میں 274؍ صحافیوں کو قید کیا گیا جو کہ تین دہائیوں میں سب سے زیادہ سالانہ تعداد بنتی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی ایک عالمی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے اپنی رپورٹ میں 2021ء کے دوران ہندوستان اور میکسیکو کو صحافیوں کے لئے مہلک ترین ملک قرار دیا تھا۔ اگرچہ صحافت کسی مخصوص زبان یا خطے تک محدود نہیں ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی کے سبب برصغیر میں ایک اردو صحافی نے سب سے پہلے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ جنھیں ہم مولوی محمد باقر کے نام سے جانتے ہیں۔

اردو صحافت کے پہلے شہید صحافی

مولوی محمد باقر کو 16؍ ستمبر 1857ء کو دہلی دروازے کے سامنے توپ کا گولہ مار کر شہید کردیا گیا۔ بعض جگہ گولی مار کر شہید کرنے کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ اس طرح مولوی محمد باقر اردو صحافت کے پہلے شہید صحافی تھے، جنھیں انگریزوں نے انوکھی سزا سنائی تھی۔

صحافیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی یا ان کے قتل کی وارداتیں تو دنیا بھر میں ہوتی ہی رہتی ہیں، اس کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کے قاتلوں اور ان پر ظلم کرنے والوں کو سزائیں بھی نہیں ملتیں۔ پچھلے دنوں یونیسکو نے کہا کہ دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں کے بیشتر معاملوں میں قصورواروں کو سزائیں نہیں ملتیں۔ اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے مطابق 2020ء اور 2021ء میں کم از کم 117؍ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل کر دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم، یونیسکو، نے حال ہی میں جاری ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران دنیا بھر میں ہلاک کر دیے جانے والے صحافیوں کے بیشتر معاملوں میں قصوروار سزا سے بچ جاتے ہیں۔ تنظیم نے صحافیوں کے خلاف جرائم کے لیے استثنا کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر یعنی 2؍ نومبر 2022ء کو جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ صحافیوں کے قتل کے لیے عالمی سطح پر استثنا کی شرح ’حیران کن حد تک بلند‘ ہے۔ یونیسکو کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے قتل کے لیے استثنا ناقابل قبول حد تک بہت زیادہ یعنی 86؍ فیصد ہے۔

اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ

یونیسکو نے صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی مناسب تفتیش اور ان کے مرتکب افراد کی شناخت اور سزا کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ادارے کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے ازولے نے ایک بیان میں کہا کہ ’اگر غیر حل شدہ مقدمات کی اتنی حیران کن تعداد موجود ہو تو اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا‘۔ صحافیوں کو قتل کرنے والے افراد کی بڑی تعداد قتل کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یعنی سی پی جے گلوبل امیونٹی انڈیکس 2022ء کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران عالمی سطح پر کام کرنے والے 263؍ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے قتل کیا گیا اور تقریباً 80؍ فیصد واقعات میں مجرموں کو کوئی سزا نہیں ملی۔

صومالیہ اس سنگین جرم کے حوالے سے مسلسل آٹھویں سال انڈیکس میں سرفہرست ہے۔ شام، جنوبی سوڈان، افغانستان اور عراق بالترتیب انڈیکس میں سرفہرست ہیں۔ یہ یکم ستمبر 2012ء سے 31؍ اگست 2022ء تک کے واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سے پہلے زیادہ تر ممالک انڈیکس میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی تاریخ کے تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور کمزور قوانین صحافیوں کے قاتلوں کو سزا سے بچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

میانمار کی فوجی حکومت

میانمار اور میکسیکو کی ہی اگر مثال لیں تو میانمار کی فوجی حکومت نے فروری 2021ء کی بغاوت اور جمہوریت کو معطل کرنے کے بعد آزاد رپورٹنگ کو دبانے کے لیے درجنوں صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا اور ریاست مخالف اور جھوٹی خبروں کے قوانین کا استعمال کیا۔ یہاں کم از کم تین صحافی مارے گئے ہیں، جبکہ میکسیکو اور برازیل میں صحافیوں کو پہلے ہی جرائم، بدعنوانی اور ماحولیاتی مسائل پر تنقیدی رپورٹنگ کے لیے مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ میکسیکو کی پوزیشن اس انڈیکس میں سب سے زیادہ سنجیدہ ممالک میں سے ایک ہے۔ سی پی جے نے گزشتہ ۱۰؍ سال میں صحافیوں کے 28؍ حل نہ ہونے والے قتل ریکارڈ کیے ہیں۔

بہر حال، اس مسئلہ پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت نواز اور ہندوستان کی تازہ اصطلاح ’گودی میڈیا‘ کو چھوڑ دیں تو واقعی خطرات کا سامنا کرنے والے دنیا بھر کے صحافیوں سے اظہار یکجہتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کی بے حد ضرورت ہے۔ملک و بیرن ملک کی تنظیموں اور اداروں کو چاہئے کہ صحافیوں اور میڈیا اہلکاروں پرہونے والے مظالم کی تحقیقات اور مقدمات کے لئے پختہ عزم کا اظہار کریں۔ ورنہ بقول شاعر؎

تجھے شناخت نہیں ہے مرے لہو کی کیا
میں روز صبح کے اخبار سے نکلتا ہوں

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com