یوکرین نے ایران سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا

مسٹر کولیبا نے کہا کہ آج مجھے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا فون آیا۔ میں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو ہلاک کرنے اور اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی سپلائی کو فوری طور پر بند کرے

کیف: یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے روس کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کی اپیل کی ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر روس کو ‘کامی کاز’ ڈرون فراہم کر رہا ہے، جنہیں روسی فوج نے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔

تاہم ایران نے اس الزام کی تردید کی اور واضح کیا کہ اس نے روس کو ڈرون سمیت کوئی ہتھیار نہیں بھیجا ہے۔

مسٹر کولیبا نے جمعہ کو دیر گئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ "آج مجھے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا فون آیا۔ میں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو ہلاک کرنے اور اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی سپلائی کو فوری طور پر بند کرے۔”

روس نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین پر ایک بار پھر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔ تازہ ترین حملوں سے یوکرین کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور کیف اور ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں کو بجلی کی غیر معمولی کمی کا سامنا ہے۔

یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے حملوں میں ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کیے ہیں، جو اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عبداللہیان نے الزامات کی تردید کی

ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ مسٹر امیر عبداللہیان نے روس کے یوکرین میں استعمال کے لیے ڈرون فراہم کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی میں ہم نے روس سے اسلحہ لیا اور انہیں ہتھیار بھی دیے لیکن یوکرین جنگ کے دوران ہتھیاروں کا تبادلہ نہیں ہوا۔

یوکرین نے جمعہ کو کہا کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے ستمبر کے وسط سے اب تک 300 سے زیادہ روسی ڈرون مار گرائے ہیں، جن کی شناخت ایک ایرانی ساختہ ڈرون ‘شاہد 136’ کے طور پر کی گئی ہے۔