سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

نئی اسرائیلی کابینہ میں زیادہ تر خواتین وزرا کا تعلق عرب ممالک سے

اسرائیل کی تاریخ جہاں میں پہلی بار کسی عرب کو وزیر بنایا گیا ہے وہیں سب سے زیادہ خواتین کو کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ یہ اسرائیل کی تاریخ میں کسی بھی کابینہ کے اندر خواتین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت میں 9 خواتین وزراء ہیں۔ نو خواتین میں سے 5 خواتین عرب نژاد ہیں۔

یروشلم: اسرائیل کی تاریخ میں جہاں پہلی بار کسی عرب کو وزیر بنایا گیا ہے وہیں سب سے زیادہ خواتین کو کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت میں 9 خواتین وزراء ہیں۔ نو خواتین میں سے 5 خواتین عرب نژاد ہیں۔ ان میں 2 کا تعلق مراکش سے اور 3 کا عراق سے ہے۔

یہ اسرائیل کی تاریخ میں کسی بھی کابینہ کے اندر خواتین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
العربیہ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق مذکورہ عرب نژاد خواتین میں 58 سالہ وزیر اقتصادیات Orna Barbivai شامل ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج میں پہلی خاتون ہیں جو میجر جنرل کے عہدے تک پہنچیں۔ اورنا کی والدہ نے عراق سے اور والد نے رومانیا سے اسرائیل ہجرت کی تھی۔ بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اورنا 2019ء سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے سماجیات میں گریجویشن اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔

اسی طرح عراقی نژاد خواتین وزراء میں 45 سالہ Ayelet Shaked بھی ہیں۔ نئی حکومت میں وزیر داخلہ کے منصب پر فائز ہونے والی ایلت کے والد گذشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں عراق سے ایران کے راستے اسرائیل ہجرت کر گئے تھے۔ ایلت نے الکٹرک انجینئرنگ میں بیلچرز مکمل کیا اور پھر کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اسرائیلی فوج میں بھی خدمت انجام دے چکی ہیں۔

نئی حکومت میں وزیر تعلیم کا عہدہ 48 سالہ Yifat Shasha-Biton کے پاس ہے۔ یفعات شاشا کی والدہ مراکش میں نرس کے پیشے سے وابستہ تھیں جب کہ والد کا تعلق عراق سے ہے۔ اسرائیلی ہجرت سے قبل وہ ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ تھے۔

نئی حکومت میں سماجی مساوات کا قلم دان 38 سالہ Meirav Cohen سنبھالیں گی۔ ان کے والدین کا تعلق مراکش سے ہے۔ ان دونوں نے اسرائیل ہجرت کی۔ میراؤ نے اکنامکس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔

اسی طرح 44 سالہ Karine Elharrar-Hartstein کا تعلق بھی مراکش کے ایک گھرانے سے ہے جو گذشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں اسرائیل منتقل ہوگیا۔ کیرین نے قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نئی حکومت میں وزیر توانائی کے طور پر کام کریں گی۔

اسرائیلی حکومت میں وزارت ہجرت کا قلم دان 40 سالہ Pnina Tamano-Shata کو دیا گیا ہے۔ وہ ایتھوپیا میں پیدا ہوئیں اور پھر 3 سال کی عمر میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ اسرائیل ہجرت کر گئیں۔ وہ قانون کے تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ پہلی ایتھوپین نژاد ہیں جنہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں نشست جیتی۔ ان کا تعلق بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے ہے۔

نئی کابینہ میں ہمیں 54 سالہ ریڈیو اور ٹی وی پیش کار اور صحافتی کارکن Merav Michaeli بھی نظر آتی ہیں۔ اسرائیل میں مشہور شخصیت رکھنے والی میراؤ ”ورک پارٹی” کی سربراہ ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق ہنگری سے ہے۔ میراؤ کے پاس ٹرانسپورٹ کی وزارت ہے۔

ماحولیات کے تحفظ کی 44 سالہ اسرائیلی خاتون وزیر Tamar Zandberg پارلیمنٹ میں ”میرٹس پارٹی” کی رکن ہیں۔ وہ اسرائیل کے سابق فٹبالر مائیکل زینڈبرگ کی بہن ہیں۔

اسرائیلی حکومت میں خواتین وزراء میں آخری نام 50 سالہ Orit Farkash-Hacohen کا ہے۔ وہ وزارت سائنس و تخلیق کا قلم دان سنبھالیں گی۔ اوریت گذشتہ حکومت میں سیاحت کی وزیر کے منصب پر کام کر رہی تھیں۔ ان کا تعلق ”بلیو اینڈ وائٹ” پارٹی سے ہے۔