سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

دارالحکومت دہلی میں اَن لاک کا عمل پیر سے شروع 

دہلی حکومت نے کورونا کے حالات کنٹرول ہونے کے بعد معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے دارالحکومت میں پیر سے اَن لاک کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا۔ مسٹر کیجریوال نے کہا کہ کل صبح پانچ بجے کے بعد ان تمام سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی، جو پوری طرح سے ممنوع ہیں۔

نئی دہلی: دہلی حکومت نے کورونا کے حالات کنٹرول ہونے کے بعد معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے دارالحکومت میں پیر سے اَن لاک کا عمل شروع کرنے کا اتوار کو اعلان کیا۔ مسٹر کیجریوال نے ایک ڈیجیٹل پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل صبح پانچ بجے کے بعد ان تمام سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی، جو پوری طرح سے ممنوع ہیں، حالانکہ کچھ سرگرمیوں کو محدود انداز میں (جزوی طور پر اجازت) دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام بازار، مارکیٹ کمپلیکس اور مالز، جنہیں گزشتہ ہفتے آڈ ایون کی بنیاد پر پھر سے کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ کل صبح دس بجے سے رات آٹھ بجے کے درمیان پوری طرح کھلے رہیں گے اور ریستوراں بھی 50 فیصد بیٹھنے کی گنجائش پر کھلیں گے۔ ایک زون میں صرف ایک ہفتہ واری بازار کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالج، تعلیمی اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ، ثقافتی، سماجی، سیاسی، کھیل، مذہبی اجلاس، اسٹیڈیم، اسپورٹ کامپلیکس، تفریح، اسپا اور جم، سویمنگ پول، سینما تھیٹر، ملٹی پلیکس فی الحال بند رہیں گے۔ دہلی کی لائف لائن میٹرو، 50 فیصد صلاحیت پر آپریٹ ہوگی، جبکہ ٹیکسی اور آٹو کو ایک وقت میں صرف دو مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مذہبی مقامات کھولے جارہے ہیں لیکن وہاں عقیدت مندوں کو اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے بتایا کہ میں توقع کرتاہوں کہ اسی طرح سے کورونا کے معاملات کم ہوتے رہے، تو آہستہ آہستہ ہم سب کی زندگی پٹری پر آجائے گی۔ یہ بہت بڑا سانحہ ہے اور ہمیں سب کو مل کر اس کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور امید کرنی ہے کہ اب کورونا کے معاملات نہ بڑھیں، خدا کرے کہ تیسری لہر نہ آئے۔