سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

ویکسین کی قیمت ملک بھر میں یکساں رکھنے کی ضرورت: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کورونا ویکسین کی قیمت میں یکسانیت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ پورے ملک میں کورونا ویکسین کی قیمت یکساں رکھی جانی چاہیے۔ اس نے مرکزی حکومت سے کووڈ ویکسین کی دوہری قیمت اور خریداری پالیسی کے تعلق سے کئی سوال کئے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کورونا ویکسین کی قیمت میں یکسانیت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ پورے ملک میں کورونا ویکسین کی قیمت یکساں رکھی جانی چاہیے۔ جج ڈی وائی چندرچوڑ، جج ایل ناگیشور اور جسٹس ایس روندربھٹ کی تعطیلاتی بینچ نے کورونا کے ٹیکے کی مختلف قیمتوں کے سبب مرکزی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس نے مرکزی حکومت سے کووڈ ویکسین کی دوہری قیمت اور خریداری پالیسی کے تعلق سے کئی سوال کئے۔

جج بھٹ نے کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ ویکسین کی قیمت کے تعلق سے کیا پالیسی ہے۔ ‘‘بنچ نے کورونا کی دوسری لہر کے دوران ضروری خدمات کی تقسیم اور فراہمی کے تعلق سے ازخود نوٹس معاملے کی سماعت کررہی تھی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسِٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ آکسیجن ٹاسک فورس نے مسودہ رپورٹ تیار کرلی ہے، لیکن اسے ابھی حتمی شکل دیا جانا باقی ہے۔ مسٹر مہتا نے کہا کہ اہل آبادی کو رواں سال کے آخر تک ٹیکہ لگادیا جائے گا، مرکزی حکومت دیگر ٹیکہ مینوفیکچرز جیسے فائزر کے ساتھ بات چیت کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں نے ٹیکے کے لئے گلوبل ٹینڈرجاری کئے ہیں، لیکن ویکسین بنانے والی کمپنیاں جیسے فائزر یا دیگر کی اپنی پالیسی ہے وہ براہ راست ملک سے بات کرتی ہے، ریاست سے بات نہیں کرتی۔

اس معاملے میں سینئر ایڈووکیٹ جئے دیپ گپتا اور محترمہ میناکشی ارورا نے بھی اپنا موقف رکھا۔

مسٹر مہتا کے یہ کہنے کے بعد کہ حکومت تفصیلی حلف نامہ پیش کرے گی، عدالت نے معاملے کی سماعت دو ہفتہ کے لئے ملتوی کردی۔