سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

مدھیہ پردیش: ہنی ٹریپ پین ڈرائیو معاملے میں پولیس نے کمل ناتھ کو جاری کیا نوٹس

مشہور ہنی ٹریپ معاملے میں مدھیہ پردیش پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کمل ناتھ کو نوٹس جاری کرکے 2 جون کو اس کے سامنے بیان اور فزیکل ایویڈنس (سی ڈی/پین ڈرائیو) مہیا کرانے کے لئے کہا ہے۔

اندور: مشہور ہنی ٹرپ معاملے میں مدھیہ پردیش پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ کو نوٹس جاری کرکے 2 جون کو اس کے سامنے بیان اور فزیکل ایویڈنس (سی ڈی/پین ڈرائیو) مہیا کرانے کے لئے کہا ہے۔

ایس آئی ٹی کے تفتیشی اسسٹنٹ (انسپکٹر) ششیکانت چورسیا کی جانب سے مسٹر کمل ناتھ کو ایک صفحہ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، جو آج میڈیا تک پہنچا۔ نوٹس کے مطابق مسٹر کمل ناتھ سے توقع کی گئی ہے کہ وہ 2 جون کو دوپہر 12:30 بجے بھوپال کے شیام لال ہلس تھانہ علاقہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر حاضر ہوکر زیر دستخط (مسٹر چورسیا) کے سامنے بیان اور فزیکل ثبوت سی ڈی/پین ڈرائیو) ایس آئی ٹی کو دینے کی زحمت کریں۔

پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ کل بھیجے گئے نوٹس میں مشہور ہنی ٹرپ کی اس مبینہ پین ڈرائیو کا ذکر کیا گیا ہے، جس کا ذکر سینئر کانگریس لیڈر کمل ناتھ نے حال ہی میں 21 مئی کو منعقدہ ایک آن لائن پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ نوٹس میں اسی پین ڈرائیو کو جانچ کے لئے دستیاب کرائے جانے اور اسی پین ڈرائیو کے تعلق سے بیان درج کرائے جانے کی توقع کی گئی ہے۔

نوٹس کے مطابق مسٹر کمل ناتھ کے ذریعہ کی گئی پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ ہنی ٹرپ معاملہ کی سی ڈی اور پین ڈرائیو ان کے پاس موجود ہے۔ اس پریس کانفرنس کو سوشل میڈیا پر بھی نشر کیا گیا تھا اور متعلقہ خبریں اخباروں میں شائع ہوئیں۔