سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

راجستھان میں عالمی مہاماری کے پیش نظر 10 سے 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ

راجستھان میں بڑھتی ہوئی عالمی مہاماری کورونا کی دوسری لہر کو توڑنے کے لئے، حکومت نے 10 سے 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جے پور: راجستھان میں بڑھتی عالمی مہاماری کورونا کی دوسری لہر کی کڑی کو توڑنے کے لیے حکومت نے 10 سے 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کی صدارت میں جمعرات کی رات ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ہوئی کابینیہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔

ریاست میں 10 مئی صبح پانچ بجے سے 24 مئی صبح پانچ بجے تک یہ لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔ شادی کی تقریب بھی 31 مئی تک نہیں ہوگی۔ اس دوران ہر طرح کے مذہبی مقامات بند رہیں گے۔ گاؤں میں منریگا کے کام بھی بند رہیں گے۔

اس دوران نجی اور روڈویز بسوں کو بھی بند کیا جائے گا۔ ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں آمد و رفت بند رہے گی۔ گھر پر شادی کرنے کی اجازت ہوگی لیکن 11 سے زیادہ مہمانوں کی اجازت نہیں۔ کورٹ میرج کی اجازت بھی ہوگی۔ شادی کی جگہ مالکوں، ٹینٹ کاروباریوں، کیٹرنگ چلانے والوں اور بینڈ-باجا والوں وغیرہ کو ایڈوانس بکنگ کی رقم لوٹانا ہوگی یا بعد میں انعقاد ہونے پر شامل کرنا ہوگی۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن کی گائڈ لائن بھی جاری

محکمہ داخلہ نے سخت لاک ڈاؤن کی گائڈ لائن بھی جاری کردی۔ نئی گائڈ لائن میں پہلے سے جاری پابندیوں کو جاری رکھتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ 17 مئی تک کے لیے پہلے سے جاری پابندیوں کو جاری رکھا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوارن بس، ٹیکسی بند رہیں گی۔ بازار بند رہیں گے۔

لاک ڈاؤن میں پہلے کی طرح پھل، سبزی، دودھ، کرانہ جیسی عام ضرورت کی چیزیں ملتی رہیں گی۔ ان کے کھلنے اور بند رہنے کا وقت پہلے کی طرح ہی رہے گا۔
میڈیکل خدمات کے علاوہ ہر طرح کے پرائیویٹ اور سرکاری ٹرانسپورٹ کے وسائل-بس، جیپ وغیرہ پوری طرح بند رہیں گے۔ بارات کے لیے بس، آٹو، ٹیمپو، جیپ وغیرہ کی اجازت نہیں ہوگی۔

ہر طرح کی آمد و رفت پر پابندی

میڈیکل، ایمرجنسی خدمات اور پرمیٹیڈ کٹیگری کو چھوڑ کر ایک ضلع سے دوسرے ضلع، ایک شہر سے دوسرے شہر، شہر سے گاؤں، گاؤں سے شہر اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں ہر طرح کی آمد و رفت پر پابندی رہے گا۔

صنعتوں اور تعمیرات سے متعلق تمام یونٹس میں کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ مزدوروں کو آئی کارڈ جاری کرنے ہوں گے۔ صنعتوں میں اہلکاروں کو لانے لے جانے کے لیے بس کی اجازت، پاس جاری ہوں گے۔ صنعتوں میں مینوفیکچرنگ یونٹس میں مزدوروں کو لانے لے جانے کے لیے خصوصی بسوں کو چلانے کی اجازت ہوگی۔

مزدوروں کے پاس جاری ہوں گے۔ ان اداروں کو مزدوروں کے پاس کے لیے مجاز شخص کے دستخط اور تفصیلات، اسپیشل بس نمبر، ڈرائیور کا نام ضلع کلیکٹر دفتر میں دینے ہوں گے۔