الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج کے بعد فتح کے جشن پر لگائی پابندی

الیکشن کمیشن نے پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج 2 مئی کو آنے کے بعد انتخابات میں فتح کے جشن پر پابندی لگانے کا ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ مدراس ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد کیا ہے۔

نئی دہلی: ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے انفیکشن کے پیش نظر منگل کو الیکشن کمیشن نے پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج 2 مئی کو آنے کے بعد انتخابات میں فتح کے جشن پر پابندی لگانے کا ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ 27 مارچ سے 29 اپریل کے درمیان مغربی بنگال، کیرالہ سمیت پانچ ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ مدراس ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد کیا ہے۔ اس سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے کورونا دور میں اسمبلی انتخابات کرانے پر الیکشن کمیشن اور اس کے عہدیداروں کی سخت سرزنش کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "2 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد کوئی فریق فتح کا جشن نہیں منا سکے گا۔ فاتح امیدوار کے ساتھ دو سے زیادہ افراد کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صرف اس کا اہل نمائندہ ہی انتخابی نتائج کا سرٹیفکیٹ متعلقہ انتخابی افسر سے حاصل کر سکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں کووڈ 19 کے معاملات میں اضافے کے پیش نظر کمیشن نے 21 اگست 2020 کی موجودہ جامع ہدایات کو شامل کرتے ہوئے گنتی کے عمل کے دوران مزید سخت التزامات کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل پیر کو مدراس ہائی کورٹ نے ملک میں کورونا وبا کے دوسرے دور کے لئے تنہا الیکشن کمیشن کو ذمہ دار قرار دیا تھا جس نے سیاسی جلسوں پر پابندی عائد نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عدالت نے یہ بھی انتباہ کیا کہ اگر الیکشن کمیشن نے کووڈ 19 پروٹوکول کی سختی سے پیروی نہیں کی تو اسے 2 مئی کو گنتی کا عمل روکنا پڑے گا۔

عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے افسران پر قتل کے الزام میں مقدمہ درج ہونا چاہئے۔