سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی

صبح گیارہ بجے وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے پٹرول اور ڈیزل نیز رسوئی گیس کے بڑھتے ہوئے داموں پر پھر سے ہنگامہ شروع کردیا۔ وہ ایوان کی بیچ میں آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے سلسلے میں منگل کے روز اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

صبح گیارہ بجے وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے پٹرول اور ڈیزل نیز رسوئی گیس کے بڑھتے ہوئے داموں پر پھر سے ہنگامہ شروع کردیا۔ وہ ایوان کی بیچ میں آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے اپوزیشن کے ارکان سے خاموش رہنے اور اپنی سیٹیوں پر جانے کی بار بار اپیل کی لیکن ان کا ہنگامہ جاری رہا۔

اس سے قبل وقفہ صفر میں بھی اسی معاملے پر اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے سبب ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی تھی۔

اس دوران اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ کچھ ارکان نے آج پھر ضابطہ 267 کے تحت کام ملتوی کرنے کی تحریک دی ہے۔ جس کی اجازت دی جانی چاہئے۔ مسٹر ہری ونش نے کہا کہ اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو اس پر اجازت دینے سے متعلق انتظام دے چکے ہیں، اس لئے وہ ان کے فیصلے پر دوبارہ غور نہیں کرسکتے۔ مسٹر کھڑگے نے مسٹر ہری ونش سے کہا ’’آپ سپریم اتھارٹی ہیں، آپ اجازت دے سکتے ہیں لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ عزت مآب اسپیکر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسے تبدیل نہیں کرسکتے‘‘۔

اس کے بعد اپوزیشن ارکان ہنگامہ اور نعرے بازی کرتے رہے۔ اس دوران ڈپٹی اسپیکر نے سوالات پوچھنے کے لئے کچھ ارکان کے نام بھی لئے لیکن شور شرابے اور ہنگامے کی وجہ سے کچھ سنائی نہیں دیا۔
اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ اور شور شرابہ جاری رہنے پر مسٹر ہری ونش نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردی۔