پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ  ایک بجے تک ملتوی

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر حزب اختلاف نے پیر کو راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں اضافے پر اپوزیشن نے پیر کے روز راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس کے سبب ایوان کی کارروائی ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔ اس سے قبل اسی معاملے پر ایوان کی کارروائی 11 بجے تک ملتوی کی گئی تھی۔

ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے پہلے التوا کے بعد 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ اپوزیشن نے پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کے سلسلے مں ضابطہ 267 کے تحت کام ملتوی کرنے کی مانگ کی۔ پہلے اس پر بحث ہونی چاہیے۔

ان کے ساتھ ہی ایوان میں کانگریس کے لیڈر آنند شرما اور اپوزیشن کے دیگر ارکان بھی کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ اس پر مسٹر ہری ونش نے کہا کہ اس معاملے پر صبح اسپیکر انتظام کرچکے ہیں، لہذا اپوزیشن کو ایوان کا کاروائی چلانے میں تعاون کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے ایجنڈے میں کئی بل ہیں جن پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن اس معاملے کو اٹھا سکتی ہے۔ لیکن حزب اختلاف کے ارکان اس دلیل سے پرسکون نہیں ہوئے اور نعرے بازی کرتے رہے۔

مسٹر کھڑگے نے کہا کہ بلوں پر بحث ہونے تک عوام کا برا حال ہو جائے گا اس لئے پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کے معاملے پر فوری طور پر بحث کی جانی چاہئے۔ مسٹر ہری ونش نے اس سے انکار کیا اور ممبروں سے اپیل کی کہ وہ خاموش ہو جائیں اور کام کرنے دیں لیکن اپوزیشن ممبران خاموش نہیں ہوئے۔ اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی ایک بجے تک ملتوی کردی۔