آج مسلم معاشرے کو عائشہ کی خود کشی و ایسے رجحانات کی تشویشناک صورتحال پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں پھیلی ظالمانہ رسومات و غیر انسانی رواجوں کے بت کو آج توڑنے کے ساتھ معاشرے میں زندگی کو اسلام کے اصولوں کے بموجب گزاریں، جس سے پھر کوئی عائشہ جہیز استحصال سے عاجز آکر خودکشی نہ کر سکے۔
پرتاپ گڑھ: اسلام ایک ایسا مذہب ہے جہاں زندگی سے لے کر موت تک کا ضابطہ ہے، جس پر عمل پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اسلام نے شادی کو بہت آسان بنایا ہے تاکہ کسی غریب کی بیٹی شادی سے محروم نہ رہے، لیکن آج غیروں کی راہ پر گامزن مسلم طبقہ جہیز لینے میں غیروں سے آگے نکل گیا ہے، جس کے سبب جہیز استحصال سے عاجز گجرات کی عائشہ خان کو خودکشی کرنی پڑی۔ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ بیٹیوں کو جہیز نہیں بلکہ وراثت میں حصہ دیا جائے جس سے غریب امیر کا توازن برابر رہے۔
جمیعۃ علماء ہند کے ضلع صدر و مدرسہ جامعتہ الصالحات کے ناظم اعلی مفتی جمیل الرحمٰن قاسمی نے جاری پریس ریلیز کے ذریعہ مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔
معاشرے کو عائشہ کی خودکشی جیسی پریشان کن صورتحال پر غور کرنے کی ضرورت
مفتی جمیل الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ آج مسلم معاشرے کو عائشہ کی خودکشی و ایسے رجحانات کی تشویشناک صورتحال پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں پھیلی ظالمانہ رسومات و غیر انسانی رواجوں کے بت کو آج توڑنے کے ساتھ معاشرے میں زندگی کو اسلام کے اصولوں کے بموجب گزاریں، جس سے پھر کوئی عائشہ جہیز استحصال سے عاجز آکر خودکشی نہ کر سکے۔
نکاح کے ساتھ وابستہ جہیز، بارات و تمام غیر اسلامی رسومات کے خلاف ایک مہیم چلا کر لوگوں کو بیدار کیا جائے کہ جہیز نہیں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دیا جائے جو اسلام کا ضابطہ ہے۔ وراثت کو عام کرنے سے شادی آسان ہوگی کسی غریب کی بیٹی جس کے پاس دینے کو جہیز نہیں ہے اس کی بھی شادی ہو جائے گی۔
سادگی سے نکاح کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں
جہیز کے خلاف شہروں، قصبوں، مساجد و چوراہوں پر بیداری پروگرام منعد کیا جائے۔ شریعت میں موجود نکاح کے حقیقی مفہوم کو اکثر مسلمانوں تک پہونچانے و خوشگوار ازدواجی زندگی کی طرف رہنمائی کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس سے اس جہیز جیسی ظالمانہ رسومات کا خاتمہ ہو سکے۔ سادگی سے نکاح کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں جس سے لوگ راغب ہوں۔
جہیز مانگنے والوں کا بائیکاٹ کیا جائے
خاندانی زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے مساجد کو مرکز بنایا جائے و مساجد کے ائمہ کو شرعی و نفسیاتی روشنی میں لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار کیا جائے۔ مسلمانوں کی تعلیم یافتہ خواتین کی ذہن سازی کی جائے۔ معاشرے میں جہیز مانگنے والوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کیا کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے ضابطہ کے بموجب گزاریں تاکہ پھر کوئی عائشہ جہیز استحصال سے پریشان ہوکر خودکشی نہ کر سکے۔