سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

نئی پارٹی کے آغاز کا کوئی منصوبہ نہیں، ریپبلکن کی حمایت جاری رکھوں گا: ٹرمپ

ٹرمپ نے اتوار کے روز اورلینڈو میں کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس (سی پی اے سی) 2021 میں کہا کہ ان کا کوئی نئی سیاسی پارٹی شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی سیاسی پارٹی کے آغاز کے منصوبوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریپبلکن پارٹی کی حمایت جاری رکھیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اورلینڈو میں کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس (سی پی اے سی) 2021 میں کہا کہ ان کا کوئی نئی سیاسی پارٹی شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’اگلے چار برسوں تک، اس کمرے میں بہادر ریپبلکن، بنیاد پرست ڈیموکریٹس اور جعلی خبریں میڈیا کی مخالفت کے مرکز میں ہوں گی… اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ میں آپ کی طرف سے لڑتا رہوں گا۔ ہم نئی پارٹی شروع نہیں کرنے جارہے ہیں‘‘۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ، جنوری کے آخر میں، امریکی میڈیا نے اطلاع دی کہ مسٹر ٹرمپ نے اتحادیوں کے ساتھ ’پیٹریٹ پارٹی‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی پارٹی کے قیام پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

تیسری بار ڈیموکریٹس کو شکست دینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ٹرمپ

’فاکس نیوز‘ نے اطلاع دی ہے کہ آدھے سے زیادہ سی پی اے سی کے شرکا نے کہا ہے کہ وہ مسٹر ٹرمپ کو 2024 میں ووٹ دیں گے۔ مسٹر ٹرمپ نے سی پی اے سی کو بتایا کہ ڈیموکریٹس صرف چار سال سے وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں اور وہ ضرورت پڑنے پر تیسری بار انہیں شکست دینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’ریپبلکن پارٹی کا مستقبل ایک ایسی جماعت کی طرح ہے جو ہر نسل، رنگ اور مسلک کے کام کرنے والے امریکی خاندانوں کے معاشرتی، معاشی اور ثقافتی مفادات اور اقدار کا دفاع کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور ایک علیحدہ پارٹی کی حیثیت سے ایک شناخت بنا رہی ہے۔ ‘‘

جو بائیڈن کی پالسیوں پر تنقید

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بعد امریکہ کے صدر بنے مسٹر جو بائیڈن کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدت کا پہلا مہینہ جدید تاریخ کا کسی بھی صدر کا سب سے بدقسمت مہینہ تھا۔ انہوں نے خاص طور پر امریکہ میں ابھرتے ہوئے سرحدی بحران کی طرف اشارہ کیا، مسٹر جو بائیڈن کی امیگریشن پالیسی پر تنقید کی اور اسے امریکہ کی بنیادی اقدار کے ساتھ غداری قرار دیا۔