بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، کچھ لاپتہ، بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر

بس نہر میں گری، 40 افراد ہلاک، مرنے والوں میں 21 مرد، 18 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ سات شخص شروعات میں ہی کسی طرح نہر سے تیر کر نکل آئے اور ان کی مقامی دیہی باشندوں نے مدد کی۔

سیدھی: مدھیہ پردیش کے ضلع سیدھی کے رام پور نیکن تھانہ علاقے میں آج صبح بان ساگر ڈیم پروجیکٹ سے منسلک نہر میں بس کے گرنے سے 40 مسافروں کی موت ہوگئی اور سات دیگر کو بحفاظت بچالیا گیا۔ اب بھی کچھ لوگوں کے لاپتہ ہونے کے خدشہ کے سبب ان کی تلاش جاری ہے۔

مرنے والوں میں 21 مرد، 18 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ سات شخص شروعات میں ہی کسی طرح نہر سے تیر کر نکل آئے اور ان کی مقامی دیہی باشندوں نے مدد کی۔ دوپہر بعد بھی نہر میں کچھ مسافروں کے بہنے کے خدشہ کے سبب تلاشی مہم جاری ہے۔ حادثہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

32 مسافروں کی گنجائش والی بس  میں 60 لوگ سوار

بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ بس کی صلاحیت 32 مسافروں کی تھی اور اس میں تقریباً 60 مسافرسوار تھے۔ بس ڈرائیور کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بحفاظت بچ گیا ہے۔ حالانکہ اس کا نام ابھی تک سامنے نہیں آ پایا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جائے حادثہ سیدھی ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور سرداگاؤں میں ہے۔ یہاں سے ستنا ضلع ہیڈکوارٹر تقریباً سو کلومیٹر دور ہے۔ بس صبح تقریبا چھ بجے سیدھی سے ستنا کے لئے روانہ ہوئی تھی اور متعینہ روڈ کے وادی چھوہیا میں جام کے سبب بس ڈرائیور نے راستہ بدل لیا اور پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت تعمیر نہر کے متوازی چل رہی سڑک پر آنے کے بعد یہ حادثہ ہوگیا اور تقریبا ساڑھے سات بجے بس نہر میں غائب ہوگئی۔

ذرائع نے بتایا کہ بان ساگر ڈیم آبی ذخائر سے جڑی اس نہر میں 20 فٹ سے زیادہ پانی جمع تھا حادثے کی اطلاع کے بعد سب سے پہلے لگ بھگ 40 کلومیٹر دور واقع ڈیم آبی ذخائر سے پانی چھوڑنے کا کام بند کرایا گیا۔ اس وجہ سے نہر کی آبی سطح کم ہوئی اور راحت و بچاؤ کے کام میں تیزی لائی جاسکی۔ حادثے کی خبر ملتے ہی ریوا ڈویژنل کمشنر راجیش جین اور کلکٹر روندر کمار چودھری بھی عملے کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔

متعدد لڑکے اور لڑکیاں ریلوے اور نرسنگ کے امتحان میں شامل ہونے جارہے تھے

ذرائع نے بتایا کہ بس میں بنیادی طور سے سیدھی اور سنگرولی اضلاع کے مسافر سوار تھے۔ مسافروں میں شامل متعدد لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین کے ساتھ ضلع ستنا میں منعقدہ ریلوے اور نرسنگ کے امتحان میں شامل ہونے جارہے تھے۔

ذرائع کے مطابق یہ بس ضلع ستنا کے باشندے ایک شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور جبلا ناتھ پریہار ٹریویل کے نام سے چلتی تھی۔ بس کی گنجائش 32 مسافروں کی تھی، لیکن اس میں تقریباً 60 لوگوں کے سوار ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

اس درمیان عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ سیدھی سے ستنا کا مین روڈ وادی چھوہیا سے ہوتے ہوئے جاتا ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے چھوہیا میں گاڑیوں کے اکثر خراب ہوجانے سے جام کی صورت حال بن رہی ہے۔ اس لئے مقامی ڈرائیور اس مین روڈ کے بجائے چھوہیا کے پہلے بگوار گاوں سے ہوتے ہوئے نہر کے متوازی جانے والے روڈ سے ہوکر ستنا جاتے ہیں۔ آج بھی بس ڈرائیور نے اسی راستے کا انتخاب کیا اور تیز رفتار سے جاتے وقت بریکر پر بس بے قابو ہوکر نہر میں جاگری۔