سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

سکم میں ہند-چین سرحد پر دونوں فوجوں کے درمیان جھڑپ

 

چینی فوجیوں نے پھر سے ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ہندوستانی فوجیوں نے ناکام بنا دیا اور چینی فوجیوں کو کرارا جواب دیا۔

نئی دہلی: گزشتہ کافی طویل عرصے سے مشرقی لداخ خطے میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے درمیان بدھ کے روز ہندوستان اور چین کی فوجوں کے درمیان سکم میں پھر سے جھڑپ ہوئی۔ تاہم، فوج کا کہنا ہے کہ یہ معمولی جھڑپ تھی اور مقامی کمانڈروں کی سطح پر مسئلے کو حل کرلیا گیا ہے۔

دونوں ملکوں کے فوجیوں کے مابین تازہ جھڑپوں سے متعلق میڈیا رپورٹوں پر صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے فوج نے آج کہا کہ شمالی سکم کے نکولہ میں بدھ کے روز دونوں طرف کے فوجیوں کے درمیان معمولی جھڑپ ہوئی۔ دونوں اطراف کے مقامی کمانڈروں نے معاملے کو طے شدہ بندوبست کے تحت حل کرلیا ہے۔

فوجیوں کے مابین تازہ جھڑپیں گزشتہ دس ماہ سے طویل تعطل کو ختم کرنے کے لئے کور کمانڈر کی سطح پر ہونے والی بات چیت سے پہلے ہوئی ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جھڑپ میں دونوں اطراف کے فوجی زخمی ہوئے ہیں اور صورتحال کشیدہ مگر قابو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی فوجیوں نے پھر سے ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ہندوستانی فوجیوں نے ناکام بنا دیا اور چینی فوجیوں کو کرارا جواب دیا۔

اتوار کے روز دونوں طرف کے کمانڈروں نے 16 گھنٹے سے زیادہ بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق کمانڈروں کی بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کے بارے میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں کافی پیشرفت ہوئی ہے لیکن فوج کو پیچھے ہٹانے کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔

اسے بھی پڑھیں:

فوجی کمانڈر مذاکرات: فوجی دستوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق نہیں ہوسکا