کورونا ویکسین پر وزیر اعظم کا اعلان، ویکسین پر سیاست، کمپنیوں کی چپقلش اور عوام کے خدشات

16 جنوری سے کورونا کے خلاف ٹیکا کاری مہم شروع کئے جانے سے متعلق وزیر اعظم کے اعلان سے پہلے اور بعد میں سیاست دانوں کے بیانات سیاست پر مبنی ہو سکتے ہیں، لیکن ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کی آپسی چپقلش اور بیان بازی افسوسناک ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک کورونا کی وبا کے خلاف مہم کے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اور سبھی کو یہ یقینی بنانا ہے کہ ویکسن کے سلسلے میں کسی طرح کی افواہ نہ پھیلے اور شرارتی عناصر اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں۔

ملک بھر میں 16 جنوری سے کورونا کی وبا کے خلاف ٹیکاکاری مہم شروع کئے جانے سے پہلے جناب مودی نے پیر کو سبھی ریاستوں اور مرکزی کے زیرانتظام علاقوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ویکسن کی مناسب تقسیم اور دیگر مسئلوں پر بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں تین کروڑ لوگوں کی ٹیکاکاری کی جائے گی جن میں طبی اہلکار اور عبوری محاذ پر تعینات ملازمین شامل ہیں۔ حکومت نے آنے والے کچھ ہی مہینوں میں 30 کروڑ لوگوں کو ٹیکا لگانے کا ہدف رکھا ہے۔

انڈیا میں کووڈ 19 کا پہلا معاملہ 30 جنوری 2020 کو منظر عام پر آیا تھا۔ شروع میں اگرچہ کورونا وائرس کے شکار لوگوں کی تعداد میںبہت دھیرے دھیرے اضافہ ہوا، لیکن چند ماہ بعد حکومت کے تمام تر اقدامات اور عوام کے ذریعہ اختیار کی گئیں ہر ممکن احتیاطی تدابیر کے باوجود مریضوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا گیا اور پھر جانوں کا اتلاف سیکڑوں سے ہزاروں اور پھر لاکھوں میں پہنچ گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں تقریباً ایک سال کے عرصہ میں کووڈ 19 کے شکار لوگوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد اور مرنے والوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہو چکی ہے۔ اس دوران انڈیا کے باشندے جن آلام و مصائب سے گزرے ہیں، وہ تقریباً ہر شہری نے محسوس کیا ہے۔

کووڈ 19 کے بارے میں شروع سے لے کر اب تک طرح طرح کی باتیں اور طرح طرح کی افواہیں ہمارے سامنے آئیں۔ بین الاقوامی اداروں اور ایجنسیوں سے لے کر حکومت ہند اور قومی اداروں تک اور سائنسدانوں سے لے کر ماہرین امراض تک، جس نے جو معلومات فراہم کی، عوام نے اس پر بھروسہ کیا اور اس وائرس سے نجات کا راستہ تلاش کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہے۔ ملک میںکورونا وائرس کو سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا اور نفرت انگیز مہم کے لئے بھی۔

انتخابات جیتنے پر مفت ویکسین لگانے کا جھوٹا وعدہ بھی کیا گیا اور وائرس کے پھیلاؤ میں ایک خاص مذہب اور جماعت کو موردلزام ٹھہرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ بہر حال، اب جبکہ لوگوں کا کورونا کی ویکسین کا انتظار ہے ختم ہونے کو ہے تو اس پر ایک بار پھر سیاست بھی ہو رہی ہے اور کاروباری لڑائی بھی۔

انتخابات جیتنے پر مفت ویکسین لگانے کا جھوٹا وعدہ بھی کیا گیا اور وائرس کے پھیلاؤ میں ایک خاص مذہب اور جماعت کو موردلزام ٹھہرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ بہر حال، اب جبکہ لوگوں کا کورونا کی ویکسین کا انتظار ہے ختم ہونے کو ہے تو اس پر ایک بار پھر سیاست بھی ہو رہی ہے اور کاروباری لڑائی بھی۔ اس طرح عوام کے درمیان طرح طرح کی قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار فطری ہے۔

انڈیا ہی نہیں، پوری دنیا ایک سال سے کورونا کی ویکسین کا انتظار کر رہی تھی۔ خوشی اور اطمینان کی بات ہے کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ویکسین تیار بھی ہو گئی اور اس کو لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔مختلف ملکوں کے سربراہان نے ویکسین کے ٹرائل میں بھی حصہ لیا اور ما بعد ٹرائل ٹیکہ لگوا کرعوام کے خدشات کو بھی دور کیا۔ لیکن ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں کہ عوام کو ٹیکہ کاری کے لئے راحتی پیغام دینے کی بجائے ان کے خدشات اور تحفظات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔

بعض  لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے وزیر اعظم کو یہ ویکسین لگوانی چاہئے اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ یہ دوا ہے، کوئی زہر نہیں۔ کوئی سیاستداں کہہ رہا ہے کہ بی جے پی حکومت نے یہ ویکسین بنائی ہے تو ہم اسے نہیں لگوائیں گے۔ کہیں بحث ہو رہی ہے کہ ویکسین حرام ہے یا حلال، لیکن عوام کشمکش اور تذبذب کا شکار ہو رہے ہیں۔

انڈیا میں فی الحال دو ویکسین کو منظوری مل گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی تنازعات بھی شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے دو ویکسین کی منظوری کے بعد مبارکباد دی تو کانگریس کے لیڈران نے کہا کہ ویکسین کی اجازت جلد بازی میں دی گئی، یہ خطرناک ہے۔

بعض نے کہا کہ پہلے وزیر اعظم کو یہ ویکسین لگوانی چاہئے اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ یہ دوا ہے، کوئی زہر نہیں۔ کوئی سیاستداں کہہ رہا ہے کہ بی جے پی حکومت نے یہ ویکسین بنائی ہے تو ہم اسے نہیں لگوائیں گے۔ کہیں بحث ہو رہی ہے کہ ویکسین حرام ہے یا حلال۔ وہیں ایک مذہب کے لوگ  کہتے ہیں کہ اس میں خنزیر کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو دوسرے مذہب کے لوگ کہتے ہیں کہ ویکسین میں گائے کا خون استعمال کیا گیا ہے، لہذا ہم نہیں لگوائیں گے۔ یعنی جس کو  جو صحیح لگتا ہے، وہ کہہ رہا ہے۔ لیکن عوام کشمکش اور تذبذب کا شکار ہو رہے ہیں۔

انڈیا میںجن دوویکسین کو ایمرجنسی میں استعمال کی منظوری دی گئی ہے ان میں ایک کا نام ’کووی شیلڈ‘ اور دوسری ویکسین ’کوویکسن‘ ہے۔ کووی شیلڈکو برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایسٹرا زینیکا کمپنی نے مل کر بنایا ہے۔ دنیا میں کورونا کی سب سے پہلی ٹیکہ کاری برطانیہ نے اسی ویکسین سےشروع کی۔

جب یہ ویکسین برطانیہ میں تیار کی جارہی تھی، تب انڈیا میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے اس کے ساتھ اشتراک کیا۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ ایک پرائیویٹ ادارہ ہے ۔ انڈیا میں آکسفورڈ نے سیرم انسٹی ٹیوٹ کی ویکسین کا نام ’کووی شیلڈ‘ رکھا۔ انڈیا کے ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا نے 3 جنوری 2021 کو اعلان کیا کہ ہمارے ’سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن‘ یعنی سی ڈی ایس سی او نے سیرم انسٹی ٹیوٹ اور بھارت بائیوٹیک دونوں کی ویکسین کے محدود استعمال کی منظوری دی ہے۔ یعنی انڈیا میں اب کچھ شرائط کے ساتھ ویکسین لگائی جاسکتی ہے۔

اس کے بعد سیرم انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او ادار پونا والا نے بتایا کہ ان کی کمپنی ویکسین کی پہلی 10 کروڑ خوراکیں حکومت ہند کو ایک خاص قیمت پر فروخت کرے گی۔ اس کی قیمت ہوگی 200 روپے کی ایک خوراک۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے علاوہ کوئی نجی کمپنی ویکسین کی خوراک خریدتی ہے تو اسے 1000 روپے فی خوراک فروخت کیا جائے گا۔ اگرچہ مرکزی وزیر صحت نے کہا تھا کہ پہلے مرحلے میں مفت ویکسین دی جائے گی ۔ بعد میں وضاحت کی کہ ترجیحی بنیاد پر پہلے ایک کروڑ صحت کارکن کو،دوکروڑ فرنٹ لائن ورکرس کو، اس کے بعد جولائی تک27 کروڑ مزید لوگوں کو ویکسین دی جائے گی۔

دوسری ویکسین کا نام ’کوویکسین‘ ہے اور اسے پوری طرح دیسی بتایا جا رہا ہے۔ یہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (Indian Council of Medical Research) اور حیدرآباد کی کمپنی ’بھارت بائیوٹیک‘ نے مل کر بنایا ہے۔ یعنی سرکاری ایجنسی اور ایک نجی کمپنی نے مل کر یہ ویکسین تیار کی ہے۔ اس ویکسین کو بھی ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا نے محدود استعمال کی منظوری دے دی ہے ۔ اسی ویکسین کی منظوری کے بعد  حزب اختلاف نے اعتراض کیا، جس سے تنازع پیدا ہو گیا۔

در اصل  ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا کے وی جی سومانی نے کہاتھا کہ’کوویکسین 110 فیصد محفوظ ہے۔ جبکہ کووی شیلڈ 70 فیصد موثر ہے اور کوویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘ یعنی جس ویکسین کا ٹرائل بھی ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، اسے ڈرگ کنٹرولر جنرل 110 فیصد محفوظ بتا رہے ہیں۔ اسی پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ٹوئیٹ کیا کہ ’کوویکسین کا تیسرا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ اس کو اتنی جلدی اجازت دےدی، جو خطرناک ہوسکتی ہے۔‘

یہ حقیقت ہے کہ بھارت بائیوٹیک کی کوویکسین کے تیسرے مرحلے کی آزمائش ابھی جاری ہے۔ آزمائشی نتائج بھی نہیں آئے ہیں۔ اسی لئے سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس ویکسین کو استعمال کی منظوری میں اتنی عجلت کیوں کی گئی ہے؟در اصل چند روز پہلے سیرم انسٹی ٹیوٹ ادار پونا والا نے بھارت بائیو ٹیک کا نام لئے بغیر کہا تھا کہ صرف تین ہی ویکسین کے اندر کورونا سے لڑنے کی صلاحیت ہے۔ جس میں فائزر، ماڈرنا اور ایسٹرینزیکاشامل ہیں، باقی ساری ویکسین پانی کی طرح ہیں۔ جس کے بعد بھارت بائیو ٹیک کے ڈاکٹر کرشنا ایلا کا کہنا تھا کہ  ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔

ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا کے وی جی سومانی نے کہاتھا کہ’کوویکسین 110 فیصد محفوظ ہے جبکہ کووی شیلڈ 70 فیصد موثر ہے اور کوویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘ یعنی جس ویکسین کا ٹرائل بھی ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، اسے ڈرگ کنٹرولر جنرل 110 فیصد محفوظ بتا رہے ہیں۔

ویکسین پر سیاست ہو رہی ہے، لہذا میں آپ کو بتادوں کہ ہم اس ویکسین کا ٹرائل نہ صرف انڈیا، بلکہ برطانیہ سمیت12 ممالک میں کررہے ہیں۔ اس پر آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بلرام بھارگوا اور ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ انڈیا بائیوٹیک کی ویکسین کو  ہنگامی استعمال کے لئے منظور کیا گیا ہے، لیکن ہم اس کو سیرم انسٹی ٹیوٹ ویکسین کی طرح استعمال نہیں کریں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ویکسین کو بیک اپ کے لئے رکھا جائے گا۔اس کے بعد پھر بھارت بائیو ٹیک نے بیان دیا کہ لوگوں کو بیان سے بچنا چاہئے۔ کو ویکسین ایک ویکسین ہے، نہ کہ ایک بیک اپ۔

بہر حال، تنازع بڑھنے کے بعد بھلے ہی بھارت بائیو ٹیک اور سیرم انسٹیٹیوٹ نے کہا ہےکہ ہمارے درمیان کوئی تنازع نہیں ہے اور ہم مل کر کام کریں گے۔ لیکن اس دوران دونوں جانب سے جو بیان بازی ہوئی اور ایک دوسری ویکسین کے بارے میں منظر عام پر بولا گیا، عوام کے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں سیاستدانوں کی باتیں گردش کرنے لگیں۔ یعنی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے وقت جس طرح کی باتیں اورقسم قسم کی اطلاعات سے عوام کشمکش کا شکار تھے، اب کورونا کی ویکسین آنے پر اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت، سرکاری ادارے، ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاںسب مل کر بیٹھیں اور عوام کے خدشات کا ازالہ کریں۔کوشش کریں کہ سائنسدانوں کی محنت ضائع نہ جائے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: yameen@inquilab.com]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں