سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا

سپریم کورٹ نے کہا کہ کچھ کسانوں نے خودکشی کی ہے، بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟ آج تک ایک بھی درخواست دائر نہیں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ زرعی قوانین اچھے ہیں۔‘‘

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے دریافت کیا ہے کہ تینوں قوانین پر پابندی کیوں نہیں لگائی جائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ تینوں قوانین پر اس وقت تک روک لگادی جائے جب تک عدالت کے ذریعہ تشکیل کمیٹی اس پر غور نہ کرلے اور اپنی رپورٹ نہ سونپ دے۔

حالانکہ اٹارنی جنرل کے ۔ کے وینو گوپال نے قوانین کو روکنے کی عدالت کے مشورہ کی سخت مخالفت کی۔

جسٹس بوبڈے نے دریافت کیا کہ "آپ ہمیں بتائیں کہ کیا آپ کسانوں کے قوانین پر پابندی عائد کرتے ہیں یا ہم لگائیں”۔ ان قوانین کو ملتوی کیجئے۔ اس میں کیا مسئلہ ہے؟ ہم اسے آسانی سے روکنے کے حق میں نہیں ہیں، لیکن ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت اس قانون کو نفاذ نہ کریں۔‘‘

بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟

عدالت نے کہا کہ کچھ کسانوں نے خودکشی کی ہے، بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟ آج تک ایک بھی درخواست دائر نہیں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ زرعی قوانین اچھے ہیں۔‘‘

چیف جسٹس نے مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات پر کسی پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسان تنظیموں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے آٹھ دور ہوچکے ہیں لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ جب کہ اگلی میٹنگ 15 جنوری کو طے ہے۔

طویل بحث کے بعد اٹارنی جنرل نے بنچ سے جلد بازی میں کوئی حکم پاس نہ کرنے کی درخواست کی، لیکن جسٹس بوبڈے نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "مسٹر اٹارنی جنرل آپ ہمیں صبر سے متعلق لیکچر نہ دیں۔ ہمیں جلد بازی میں کیوں نہ روک لگانی چاہئے؟”

جسٹس بوبڈے نے سماعت مکمل کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج یا کل اس معاملے میں اپنا حکم جاری کریں گے۔ ممکن ہے کہ آج ایک جزوی آرڈر جاری ہو اور کل ایک مکمل آرڈر۔