‘لو جہاد’ روکنے کے لئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل 2020 کو ریاستی کونسل کی منظوری

ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا کہ جب یہ بل قانون کی شکل اختیار کرے گا تو پھر 1968 کا فریڈم آف ریلیجنس ایکٹ ختم ہوجائے گا۔ 

 

بھوپال: مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے آغاز سے صرف دو دن پہلے، آج یہاں ریاستی کابینہ نے لو جہاد اور مذہب کی تبدیلی کو روکنے سے متعلق اہم مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل 2020 کو منظوری دے دی۔

ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے وزرا کی مجلس کی میٹنگ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اس بل میں مذہب تبدیل کرنے کو روکنے کے لئے سخت التزام کئے گئے ہیں۔ اس میں سزا کے بہت سخت الترامات ہیں اور بہت سارے التزامات ملک میں فی الحال صرف اسی ریست میں کئے گئے ہیں۔

مسٹر مشرا نے کہا کہ جب یہ بل قانون کی شکل اختیار کرے گا تو پھر 1968 کا فریڈم آف ریلیجنس ایکٹ ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پیر سے شروع ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

جعلسازی سے یا دیگر طریقے سے کسی کا مذہب تبدیل کرانے کی کوشش نہیں کرسکے گا۔ کوئی بھی شخص مذہب تبدیل کرنے کی تحریک یا سازش نہیں کرسکے گا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس بل میں مذہب تبدیل کرنے اور کرانے والوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے لئے سخت سزا التزام کیا گیا ہے۔

ایک نظر ادھر بھی:

لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا