سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

سپریم کورٹ کا مشورہ کسانوں کی اخلاقی جیت: اے آئی کے ایس سی سی

کسان تنظیم نے کہا کہ وزیراعظم ملک کو جھوٹ کہہ رہے ہیں کہ ان قانونوں سے کسانوں کی زمین نہیں چھنے گی اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) جاری رہے گی۔

نئی دہلی: آل انڈیا کسان سنگھرش کورڈنیشن کمیٹی (اے آئی کے ایس سی سی) نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ تجویز کی گئی کمیٹی کا فائدہ کسانوں کو زرعی اصلاحات قانون کو واپس لینے کے بعد ہی ہوگا اور عدالت کا مشورہ کسانوں کی اخلاقی جیت ہے۔

اے آئی کے ایس سی سی نے عدالت میں اس معاملے پر ہوئی سماعت کے بعد جاری ردعمل میں کہا کہ دہلی کی تحریک تین زرعی قانون اور بجلی قانون – 2020 کی واپسی تک جاری رہے گا۔ کسان ہمیشہ اپنی رائے رکھتے رہے ہیں۔

کسان تنظیم نے کہا کہ وزیراعظم ملک کو جھوٹ کہہ رہے ہیں کہ ان قانونوں سے کسانوں کی زمین نہیں چھنے گی اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) جاری رہے گی- یہ دعوی لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے ہے۔ دودھ پروڈکشن کے کو آپریٹو سرکاری کمیٹیوں کو فروغ دیا، نجی کمپنیوں کو برباد کیا ہے۔

اے آئی کے ایس سی سی نے کہا ہے کہ عدالت کے ذریعہ حکومت کو مشورہ کسانوں کی اخلاقی جیت ہے۔ کسان ہمیشہ ہی اپنی رائے رکھنے کے لئے تیار رہے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کمیٹی بنتی ہے تب بھی دہلی کی تحریک تین زرعی قانون اور بجلی قانون واپس ہونے تک جاری رہے گی۔

کمیٹی کا بننا تب فائدے مند ہوگا اگر پہلے یہ قانون واپس لئے جائیں اور اے آئی کے ایس سی سی نے کہا کہ وزیراعظم کسانوں کے اپوزیشن کے ذریعہ گمراہ کئے جانے کے پرانے راگ کو الاپ رہے ہیں۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ وہ خود ملک کو گمراہ کررہے ہیں۔

انہوں نے اپنی پرانی وضاحت کو دہرایا ہے کہ کسان کی زمین نہیں جائے گی، ایم ایس پی سرکاری خرید جاری رہیں گے، قانون کسانوں کے لئے موقع پیدا کررہے ہیں، جبکہ ان کے سارے قدم اسے غلط ثابت کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کیا غلط دعوی

اے آئی کے ایس سی سی نے کہا کہ وزیراعظم نے یہ غلط دعوی کیا کہ دودھ پروڈکشن کو غیر سرکاری نجی شعبہ نے فروغ دیا، جبکہ حکومت حمایت یافتہ کو آپریٹو کمیٹیوں سے دودھ کا شعبہ بڑھا اور بعد میں نجی شعبہ کے گھسنے سے دودھ کی قیمت گھٹ گئی۔

دو دن پہلے انہوں نے صنعت کاروں سے کھیتی میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے کہا تھا۔ ان کے وزیر کہتے ہیں کہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے ایک لاکھ کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

حکومت کا دستاویز ’پٹنگ فارمرس فرسٹ‘ کہتا ہے کہ ان قانونوں سے ایگری بزنس کے لئے موقع کھلیں گے۔ ان قانونوں سے مودی حکومت کسانوں کو نہیں غیر ملکی کمپنیوں اور کارپوریٹ کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

اے آئی کے ایس سی سی کی ورکنگ گروپ نے آئندہ 20 دسمبر کو صبح 11 بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہر گاؤں میں اس تحریک میں شہید ہوئے پنجاب اور ہریانہ کے 30 جنگجوؤں کا یوم خراج عقیدت منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنگھو اور ٹکری، شاہ جہاں پور اور پلول میں کسانوں کی حصہ داری بڑھ رہی ہے۔ غازی پور میں بڑی تعداد میں لوگوں کے آنے کی امید ہے۔ ایکتا کونسل، مہاراشٹر کے 1000 لوگ آج پلول پہنچیں گے اور گجرات کے 100 لوگ شاہ جہاں پور پہنچیں گے۔