مغربی بنگال کے مسلمان ممتا بنرجی کی جاگیر نہیں: اویسی

اسدالدین اویسی نے کہا کہ "اب تک آپ نے صرف فرمان بردار میر جعفرز اور صادقوں کے ساتھ ہی معاملہ کیا ہے۔ آپ ان مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے جو خود سوچتے ہو اور بات کرتے ہیں۔”

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے ذریعہ اے ایم آئی ایم کی تنقید اور بی جے پی کی بی ٹیم قرار دئے جانے کے بعد اسد الدین اویسی نے آج ممتا بنرجی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بنگال کے مسلمان ممتا بنرجی کی جاگیر نہیں ہیں۔ ممتا بنرجی نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ بی جے پی کروڑوں روپے خرچ کرکے حیدرآباد کی ایک پارٹی کو آئندہ اسمبلی انتخابات میں کھڑا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

مسٹر اویسی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ مسلمان جو اپنے لئے سوچتے اور بولتے ہیں، ممتا بنرجی انہیں پسند نہیں کرتیں۔ ترنمول کانگریس کی سپریموکے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اویسی نے لکھا ہے کہ کوئی بھی انہیں پیسے سے نہیں خرید سکتا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے ٹویٹ کیا، "اب تک آپ نے صرف فرمان بردار میر جعفرز اور صادقوں کے ساتھ ہی معاملہ کیا ہے۔ آپ ان مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے جو خود سوچتے ہو اور بات کرتے ہیں۔

اویسی نے لکھا ہے کہ خود آپ اپنے لوگوں کے بکھرنے سے خوف زدہ ہیں۔ آپ کے لوگ بی جے پی میں جارہے ہیں اس لئے آپ بے چین ہیں۔ اویسی نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس کے رہنما نے بہار کے لوگوں کی توہین کی ہے جنہوں نے اے ایم آئی ایم کو ووٹ دیا۔

مسٹر اویسی نے کہا کہ نام نہاد سیاسی جماعتیں بی جے پی سے شکست کے لئے ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔اپنی ناکامیوں کے لئے مجھے کیسے ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔