سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو طلب کیا

وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ایک مکتوب ارسال کرکے پیر کے روز انھیں طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے رپورٹ ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر مغربی بنگال میں جمعرات کو پتھراؤ کے واقعہ کو بے حد سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو پیر کے روز طلب کیا ہے۔ 

وزارت نے اس معاملے میں جمعرات کو ہی ریاستی حکومت سے لاء اینڈ آرڈر (امن عامہ) کی صورتحال اور اس واقعہ کے بارے میں رپورٹ مانگی تھی۔ 

وزارت داخلہ نے مزید ایک اقدام کرتے ہوئے جمعہ کے روز مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ایک مکتوب ارسال کرکے پیر کے روز انھیں طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے رپورٹ ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر نڈا مغربی بنگال کے دو روزہ دورے کے دوسرے دن یعنی جمعرات کو جب ڈائمنڈ ہاربر جا رہے تھے تو ان کے قافلے پر پتھراؤ کیا گیا۔ بدھ کے روز مغربی بنگال یونٹ کے صدر نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر مسٹر نڈا کی سیکیورٹی کے سلسلے میں برتی گئی لاپرواہی کا معاملہ اٹھایا تھا۔

مرکزی حکومت اس حملے کی مکمل سنجیدگی سے نوٹس لے رہی ہے

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز اس واقعہ کی سنجیدگی سے نوٹس لے رہا ہے۔ 

انہوں نے ٹویٹ کیا، ’بنگال میں بی جے پی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا پر ہوا حملہ بہت ہی قابل مذمت ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ مرکزی حکومت اس اسپانسرڈ حملے کو مکمل سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ بنگال حکومت کو اس حملے کے لیے ریاست کے امن پسند عوام کو جواب دینا ہوگا۔ ترنمول حکومت میں بنگال ظلم، انارکی اور اندھیرے کے زمانے میں جا چکا ہے۔ ٹی ایم سی کی حکومت میں مغربی بنگال کے اندر جس طرح سے سیاسی تشدد کو ادارہ جاتی بنا کر انتہا پر پہنچایا گیا ہے، وہ جمہوری اقدار میں یقین رکھنے والے تمام لوگوں کے لیے تکلیف دہ بھی ہے اور تشویشناک بھی‘۔