سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

مغربی بنگال میں سات ماہ بعد لوکل ٹرین خدمات دوبارہ شروع

مسافروں کے لئے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ داخلے اور خارجی راستوں کے نشانات ہوں گے۔ واش روم کی صفائی کے ساتھ بڑی تعداد میں صابن اور سینیٹائزر بھی مہیا کیے جائیں گے۔ ٹرین کے اندر صفائی کے ساتھ ساتھ پلیٹ فارم پر بھی صفائی ہوگی۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں سات مہینے کے بعد آج سے لوکل ٹرین کی خدمات آج سے شروع ہوگئی ہیں۔ تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے سخت انتظامات اور نگرانی کی جارہی ہے اور مسافر بھی قوانین پر عمل کررہے ہیں۔

مشرقی اور جنوب مشرقی ریلوے کے تحت چلنے والی لوکل ٹرین خدمات آج سے شروع ہوگئی ہے۔ تاہم پہلے دن ای ایم یو ٹرینوں میں آج اتنی بھیڑ نظر نہیں آرہی ہیں جو کورونا عہد سے قبل تھی۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق آہستہ آہستہ مسافروں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ مہنگے ٹرانسپورٹ کے بجائے مسافر لوکل ٹرین میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ریلوے انتظامیہ نے مسافروں سے کووڈ – 19 کے قواعد پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹیشن کے احاطے اور ٹرینوں میں ماسک پہننا لازمی ہے۔ ریلوے افسر نے بتایا کہ مشرقی ریلوے کے سیالدہ سیکشن میں 413 مضافاتی ٹرینیں اور ہوڑہ سیکشن میں 202 ٹرینیں بدھ سے چلنا شروع ہوگئی ہیں۔ جب کہ جنوب مشرقی ریلوے 81 باقاعدہ ٹرینیں چلائی جارہی ہیں۔

حکومت اور ریلوے انتظامیہ کے درمیان طویل میٹنگوں کے بعد ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار جاری

کورونا انفیکشن کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے نتیجے میں لوکل ٹرین کی خدمات بند کردی گئی تھیں۔عوام کے شدید مطالبے کے بعد اب لوکل ٹرین کی خدمات شروع کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت اور ریلوے انتظامیہ کے درمیان طویل میٹنگوں کے بعد ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ہر مسافر کو ماسک لگانے کے ساتھ 50 فیصد سیٹوں پر بھی بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

حکومت نے اور ریلوے انتظامیہ کے مابین ذمہ داری شیئر کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ نے ایس او پی جاری کیا۔ ریلوے ضرورت کے مطابق ٹرینوں کی مناسب تعداد کو یقینی بنائے گی۔

حکومت کے مطابق مسافروں کے لئے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ داخلے اور خارجی راستوں کے نشانات ہوں گے۔ ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے جی آر پی کی مدد کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی ای ٹکٹنگ اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ ساتھ واش روم کی صفائی کے ساتھ بڑی تعداد میں صابن اور سینیٹائزر بھی مہیا کیے جائیں گے۔ ٹرین کے اندر صفائی کے ساتھ ساتھ پلیٹ فارم پر بھی صفائی ہوگی۔ تھرمل چیکنگ کے ساتھ دیگر حفاظتی معیارات بھی طے کیے جائیں گے، تاکہ متاثرہ شخص اسٹیشن کے اندر داخل نہ ہوسکے۔ اسٹیشنوں تک آمد و رفت کی مناسب موجودگی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔