سپریم کورٹ نے بازار میں تیزی کے دوران سیبی اور سیٹ کو ہوشیار رہنے کی مشورت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن...

مرکزی حکومت کا الرٹ، وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

 مہاراشٹرا میں زیكا وائرس کے کچھ کیسز سامنے آنے...

بھارت-منگولیا مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ” میگھالیہ میں شروع

بھارت اور منگولیا کے مشترکہ فوجی مشق "نومیڈک ایلیفینٹ"...

ہاتھرس حادثے میں جاں بحق افراد کے لیے صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے منگل...

راشٹریہ شکشک ایوارڈ کے لیے خود نامزدگی 15 جولائی تک: تعلیم وزارت

راشٹریہ شکشک ایوارڈ 2024 کے لیے اہل اساتذہ سے...

مہاراشٹر اسمبلی کے سکریٹری کو سپریم کورٹ نے جاری کیا توہین عدالت کا نوٹس

عدالت نے نوٹس جاری کر کے خط لکھنے والے سکریٹری سے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ بینچ نے نوٹس کے جواب کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں مہاراشٹر اسمبلی سکریٹریٹ کے سکریٹری کو جمعہ کے روز نوٹس جاری کر کے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروئی شروع کی جائے۔ 

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین رکنی بینچ نے توہین عدالت کی نوٹس اس وقت جاری کیا جب اسے ارنب کی جانب سے پیش سینیئر وکیل ہریش سالوے نے آگاہ کیا کہ سکریٹریٹ کے سکریٹری نے 30 اکتوبر کو ارنب کو خط لکھ کر کہا ہے کہ انہوں نے رازداری کی شرط کی خلاف ورزی کی ہے۔ 

مسٹر سالوے کے مطابق مہاراشٹر اسملبی سکریٹریٹ کے سکریٹری کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ ارنب کو بتایا گیا تھا کہ کارروائی خفیہ ہے لیکن انہوں (ارنب) نے بغیر اسمبلی اسپیکر کی اجازت کے اس بات کی اطلاع سپریم کورٹ کو دے دی۔ 

جسٹس بوبڈے نے سکریٹری کے اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا، ’آئین کی دفعہ 32 کس لیے ہے؟ سکریٹری کا یہ خط ایک شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ خط کے ذریعے متعلقہ شخص کو عدالت جانے پر ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے‘۔ 

بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کر کے خط لکھنے والے سکریٹری سے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ بینچ نے نوٹس کے جواب کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ 

اس دوران ارنب کی اس معاملے میں گرفتاری نہیں ہو گی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سینیئر وکیل اروند دَتَّار کو انصاف دوست بنایا ہے۔