چندریان سے فتح قمر کے بعد ستاروں سے آگے، اورپیچھے زمیں پر جہاں اور بھی ہیں

بلا تفریق مذہب و ذات اس بات پر نازاں ہے کہ ہندوستان نے ’چاند فتح‘ کر لیا ہے، لیکن کیا یہاں کرۂ ارض پر نفرت کی دیواریں دو فرقوں کے درمیان چاند کے راستے میں حائل کی جا رہی ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

وطن عزیز میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی روز نئی نئی شکل میں سامنے آ رہی ہے اور اس کے نئے نئے کردارسامنے آ رہے ہیں۔ کبھی یہ نفرت انگیزی مسند اقتدارپر بیٹھیے لوگوں کے ذریعہ سماج میں زہر گھولتی ہے۔ کبھی مذہبی جلسوں اور جلوسوں میں فروغ پاتی ہے۔ کبھی وہ تہذیب و ثقافت کے نام پر اور کبھی نام نہاد راشٹرواد کے نام پر ایک فرقہ پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ ’نئے بھارت‘ میں نفرت، تعصب اور تشدد نے اپنی بنیادیں مضبوط کر لی ہیں۔

نفرت انگیزی کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ اب فلموں میں ہی نہیں، سڑکوں پر، ٹرینوں میں، بسوں میں، بازاروں میںاور یہاں تک کہ تعلیم کے مندر اسکول کالجوں میں بھی یہ فرقہ پرستی رقص کرتی نظر آتی ہے۔ تعصب اور نفرت کے بے لگام گھوڑے پر سوار فرقہ پرست اس کے بھیانک انجام سے بالکل بے خبر ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ایک طبقہ کو ہراساں کرکے، انھیںاحساس کمتری میں مبتلا کرکے، ان کے مذہبی امور میں رخنہ اندازی کرکے، ان کے کھانے پینے اور شکل و شباہت پر حملے کرکے، انھیں دوسرے درجہ کا شہری بنا کراس ملک کوترقی اور خوشحالی کے راستے پر لے جائیں گے، تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ افسوس دنیا میں جس بھارت کی پہچان مہاتما گاندھی نے ’عدم تشدد‘ سے کروائی، آج کا’نیا بھارت‘نفرت، تعصب اور تشدد کی علامت بن گیا ہے۔

ابھی پورا ملک بلا تفریق مذہب و ذات اس بات پر نازاں ہے کہ ہندوستان نے ’چاند فتح‘ کر لیا ہے۔ ہم نے ’چندر یان3‘ کی کامیابی کے ساتھ سائنس اور خلا میں اپنے جھنڈے گاڑے ہیں۔ لیکن ایک طرف ہم چاند پر کمند ڈال رہے ہیں، دنیا کی رہنمائی کا خواب دیکھ رہے ہیں، ’وشو گرو‘ بننے کا دعویٰ کر ہے ہیں، وہیں دوسری طرف ملک کو ایک ایسے گڑھے میں لے جا رہے ہیں، جہاں سے نکلنا نا ممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہے۔ نفرت کی یہ دیواریںدو فرقوں کے درمیان نہیں، بلکہ چاند کے راستے میں حائل کی جا رہی ہیں۔

کیسے ہم اس بات پر فخر کر سکتے ہیں کہ ہم چاند پر ہیں؟ آخر کیوں ہماری سائنس اور ’روور‘ ملک میں پھیل رہی نفرت کو نشان زد نہیں کر پا رہے ہیں؟حالات اس قدر نا گفتہ بہ ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے کہ ہم ’چندریان3‘ کو ’نئے بھارت‘ کی سچی تصویر سمجھیں یا مظفر نگر کے اسکول میں پیش آیا واقعہ ہی ’نئے بھارت‘ کی حقیقت ہے؟  افسوس اس بات کا ہے کہ سماج میں نفرت، تعصب اور تشدد کا یہ زہر نیچے سے اوپر کی طرف نہیں، بلکہ اوپر سے نیچے کی طرف آ رہا ہے۔

فرقہ پرستی کا یہ زہر سماج میں بہت گہرائی تک پیوست ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسی بے شمار مثالیں مل جائیں گی جب حکومت، پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طبقہ کے خلاف جتنے بھی مظالم کر لئے جائیں، ملزمین کو کٹہرے میں نہیں ، بلکہ اقتدار کے ساتھ کھڑا پائیں گے۔ حال ہی میں نوح میں پیش آئے واقعات اس کی تازہ مثال ہیں۔

ملک کا انصاف پسند طبقہ جن لوگوں کو ان واقعات کا اصل ذمہ دار مانتا ہے، وہ آرام سے ٹی وی پر بیٹھ کر انٹرویو دے رہے ہیں اور دوسری طرف ایک ہی طبقہ کے تقریباً ایک ہزار مکانوں کو مسمار کر دیا جاتا ہے، کاروبار تباہ کر دیا جاتا ہے اور سیکڑوں لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ہم نے دیکھا تھا کہ مہاراشٹر میں چلتی ٹرین میں منافرت کے زہر میں ڈوبا چیتن نام کا ایک سرکاری محافظ چن چن کر تین مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دیتا ہے۔ مزید کو مارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پہلی نظر میں ذہنی بیمار قرار دے کراس کے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

وہیں حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم ’غدر 2‘ دیکھ کر نکلنے والے کس طرح کا اظہار کرتے ہیں، اس سے ’نئے بھارت‘ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایک رپورٹر فلم دیکھ کر نکلنےوالی ایک جواں سال لڑکی سے پوچھتا ہے کہ فلم کیسی لگی، وہ کہتی ہے کہ ’ بہت اچھی ہے، مسلمانوں کے چہرے پر جو خوف نظر آ رہا ہے، وہ مَست ہے‘۔ اسی طرح ایک 94 سال کی ایک بوڑھی عورت سے جب وہ یہی سوال کرتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ’ارے اپنے لوگ اتنے مسلمانوں سے لڑے اس سے بڑے فخر کی بات کیا ہے۔‘ ملک میں نفرت کا زہر گھولنے والی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کوقومی یکجہتی کے زمرے میں ’نیشنل فلم ایوارڈ‘سے نوازا جاتا ہے۔ اس فلم کی نمائش کے دوران سنیما گھروں سے لے کر سماج میں کس قدر نفرت اور اشتعال کو پھیلایا گیا تھا، وہ سب نے دیکھا تھا۔ فلم کو نہ صرف ٹیکس فری کیاگیا، بلکہ ملک کے مختلف حصوںمیں حکمراں طبقہ نے مفت میں فلم دکھانے کا انتظام کیا تھا۔

اب ایسے میں ’کسے وکیل کریں، کس سے انصاف چاہیں‘۔ آپ سوچیں کہ ظلم کے خلاف کس سے انصاف کی امید لگائیں۔ کس سے گفتگو اور مذاکرات کئے جائیں کہ فرقہ وارانہ اہم آہنگی برقرار رہ سکے۔ اس سوال کا جواب ان لوگوں کو بھی دینا چاہئے جو چاہتے ہیںکہ مظلوم خود ظالم کے سامنے دست بستہ ہو کر گزارش کرے کہ آؤ ملک میں امن و سکون قائم کریں۔

مظفر نگر کے اسکول میں پیش آیا واقعہ کیا کسی ایک ٹیچر یا کسی ایک بچے تک محدود ہے؟ شاید نہیں۔ یہ معاملہ ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ تعلیم کے مندر میں ایک خاتون ٹیچر نے جو شرمناک حرکت کی ہے، اس کے لئے مذمتی الفاظ بھی ناکافی ہیں۔ اس نے نہ صرف استاد کے مرتبہ اور اس کی شان کو ملیا میٹ کیا ہے، بلکہ نفرت میں ڈوبی اس خاتون نے آج کے بھارت کی حقیقت بیان کر دی ہے۔

کبیر داس کا ایک دوہا ہے’گرو گووند دوؤ کھڑے، کاکے لاگو پائے‘۔ کبیر داس نے اس دوہے میں گرو یعنی استاد کی شان بیان کی ہے۔ کہتے ہیں کہ زندگی میں کبھی کبھی ایسی صورت حال آتی ہے کہ جب گرو اور گووند (بھگوان) ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں تو پہلے کس کا احترام کیا جائے۔ لیکن مظفر نگر کے ’نیہا پبلک اسکول‘ کی ٹیچر ترپتا تیاگی نے بتا دیا ہے کہ نئے بھارت میں اب کبیرکا دوہا بے معنی ہے ۔ کیا اسسے پہلے اس طرح کے واقعات کے بارے میں کوئی سوچ سکتا تھا؟

اگر کبھی ایسا ہوتا بھی تھا  تو شرمندگی اور احساس جرم کے سبب ملزم پانی پانی ہو جاتا تھا اور اس کے خلاف کارروائی یقینی ہوتی تھی، لیکن آج ایسا نہیں ہے۔  نفرت انگیزی کے اس دور میں نہ کوئی شرمندگی ہے، نہ کسی جرم کا احساس اور نہ ہی کسی قانونی کارروائی کا خوف۔ مظلوم ہی خوفزدہ نظر آتا ہے۔ اسی لئے تو مظفر نگر میں ایک مسلم بچے کو کلاس میں الگ کھڑا کرکے ہندو بچوں سے پٹوایا جاتا ہے اور مدھیہ پردیش میں صرف اس لئے ایک مسلم اسکول پر بلڈوزرچلا دیا جاتا ہے کیوں کہ وہاں کی غیر مسلم بچیاں اسکارف پہنتی تھیں۔

 اسکول کی پرنسپل ، ٹیچر اور سیکورٹی گارڈ کو طالبات کو حجاب پہننے پر مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ریاست کے دموہ میں ’گنگا جمنا پبلک اسکول‘ کی طرح مظفر نگر کے ’نیہا پبلک اسکول‘ میں ایسی کوئی کارروائی آپ کو نظر آئی؟ نہیں، کیوں کہ یہاں مظلوم مسلمان ہے اور ملزم ایک ہندو ہے۔ نئے بھارت میں ظالم اور مظلوم کے ساتھ  انصاف اور نا انصافی کا مطلب بھی بدل گیا ہے۔

پچھلے چند برسوں کا بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، ایک ہی قسم کے جرم میں انصاف کے دو پیمانے نظر آتے ہیں۔ خوف اور احساس کمتری کا یہ عالم ہے کہ مظفرنگر کے متاثر بچے کے والد نے پولیس سے شکایت تک نہیں کی۔ بھلا ہو سوشل میڈیا پر سرگرم ان انصاف پسند ہندوستانیوں کاجن کی وجہ سے یہ معاملہ سامنے آیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن ہندو بچوں سےمسلم بچے کو پٹوایا گیا، ان کے والدین سامنے آتے اور ٹیچر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے، مگر ایسا نہیں ہوا، کیوں کہ یہی ’نئے بھارت‘ کی ’بلند تصویر‘ ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)
yameen@inquilab.com

اس مضمون میں پیش کئے گئے افکار وخیالات مضمون  نگار کے ذاتی ہیں۔