انگریز کس طرح ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر گامزن رہے

ایودھیا کے باشندے پہلے بابری مسجد کو سیتا رسوئی مسجد کہتے تھے

ایودھیا میں واقع ہنومان گڑھی میں مسجد کے انہدام کی جھوٹی خبر کے بعد ایودھیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم کا پہلا واقعہ اس لیے ہوا کہ انتہا پسند مسلمانوں کا گروپ بابری مسجد کے اندر ٹھہرا ہوا تھا اور مسجد ہی میں سب کو مار دیا گیا تھا، اسی لیے خود بابری مسجد بھی متنازعہ ہو گئی۔

خاص بات یہ ہے کہ اس وقت تک ایودھیا کے باشندے بابری مسجد کو سیتا رسوئی مسجد کہتے تھے۔ تاہم اس وقت تک انگریز ملک پر قابض ہو چکے تھے، اس لیے معاملہ انگریزوں کے ہاتھ میں پہنچ چکا تھا۔

انگریزوں نے مسلمانوں کو مسجد کے اندر نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی جب کہ ہندوؤں کو مسجد کے باہر پوجا کرنے کی اجازت تھی

1859 میں انگریزوں نے مسلمانوں کو مسجد کے اندر نماز پڑھنے اور ہندوؤں کو مسجد کے باہر خاردار تاروں سے گھیر کر پوجا کرنے کی اجازت دی تھی۔ 1877 میں مسجد کے متولی سید محمد اصغر نے انگریزوں سے مسجد کے بیرونی احاطے میں رام چبوترہ کی تعمیر کی شکایت کی جس کے بعد انگریزوں نے ایک ٹیم بھیجی لیکن اس معاملے میں مداخلت نہیں کی۔ اس پلیٹ فارم پر ہندوؤں نے بھجن کیرتن کرنے لگے اور معاملہ کچھ دنوں کے لیے ٹھنڈا ہوگای۔

برطانوی سامراج کے خلاف جنگ میں ہندو اور مسلمان متحد ہوگئے

سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہ معاملہ صرف ایودھیا تک محدود تھا کیونکہ 1857ء میں انقلاب کا بگل بج چکا تھا اور ہندو مسلم اتحاد کا پرچم لہراتے ہوئے سب انگریزوں کے خلاف محاذ تیار کرچکے تھے۔

جھانسی کی رانی لکشمی بائی، تانتیا ٹوپے، نانا صاحب پیشوا، بیگم حضرت محل، کنور سنگھ، منگل پانڈے، مولانا احمد اللہ شاہ اور مولانا فضل حق خیرآبادی جیسے لوگوں نے انگریزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن کئی ریاستوں اور چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا مگر بہت سارے راجواڑوں اور چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں نے اس جنگ میں انگریزوں ک ہیا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے ہم آزادی کی پہلی جنگ نہیں جیت سکے۔

ہزاروں ہندوستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ہزاروں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، بعض کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت بننے والے بہادر شاہ ظفر کو انگریز حکمرانوں نے گرفتار کر کے رنگون بھیج دیا۔

انگریزوں کے خلاف انقلاب کا بگل

چند ہائیوں کے بعد ایک بار پھر ہندوستانیت کی لہر نے طوفان کی شکل اختیار کر لی اور بیسویں صدی کے دوسری دہائی میں ایک بار پھر انگریزوں کے خلاف انقلاب کا بگل بجادیا گیا۔

اس بار بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللہ خاں، رام پرساد بسمل، راج گرو، نیتا جی سبھاش چندر بوس، راجہ مہندر پرتاپ، مولانا برکت اللہ بھوپالی، اور مولانا حسرت موہانی جیسے نام اس جدوجہد میں شامل رہے۔

تقسیم ہند

ہندوستانی انقلابیوں کی دوسری جماعت کانگریس کی قیادت میں کھڑی ہوی اور پھر مہاتما گاندھی کی شکل میں ہندوستانیوں کو ایک مسیحا ملا اور ہم 1947 میں آزاد ہوئے لیکن انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ہم سب کے سینے پر ایک زخم لگ گیا اور اس خوبصورت ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اس کام کو مذہب کے نام پر انجام دیا گیا اور ملک کو تقسیم کرنے کے لیے انگریزوں نے محمد علی جناح کو اپنا ایجنٹ بنایا۔

حیرت کی بات ہے کہ ملک کی تقسیم جیسے اہم فیصلے میں ملک کے ہندو اور مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ صرف جناح اور مسلم لیگ کی آواز پر ملک دو حصوں میں تقسیم ہوا، جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کی تقسیم کے بارے میں رائے عامہ جاننے کے لیے ریفرنڈم کرایا جاتا۔

کئی ممتاز مسلم اداروں نے تقسیم ہند کی مخالفت کی

خاص بات یہ تھی کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مذہبی رہنما اور سنی مسلمانوں کی ایک عظیم شخصیت بھی قیام پاکستان کی مخالفت میں تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مولانا آزاد اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ لاکھوں مسلمان تھے۔

ان کے علاوہ سنی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم جمعیت علمائے ہند کے معروف مذہبی رہنما مولانا حسین احمد مدنی بھی پاکستان کے قیام کی مخالفت کرتے رہے۔ دوسری طرف شیعہ طبقے کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے اسٹیج سے بڑے بڑے شیعہ علمائے کرام ملک کی تقسیم کی مخالفت کر رہے تھے۔

سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ اللہ بخش سمرو بھی جناح کے دو قومی نظریہ کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے سندھ میں اس وقت کے مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ اسمبلی کو بتایا تھا کہ ہندوستانی مسلمان ملک کی تقسیم نہیں چاہتے ہیں، ان کے علاوہ احرار تحریک کے سرکردہ رہنما سید عطاء اللہ شاہ بخاری بھی قیام پاکستان کے سخت مخالف تھے۔

اس وقت ملک کے 4 کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آل انڈیا مومن کانفرنس کی جانب سے ملک کی تقسیم کی مخالفت میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ لیکن انگریزوں نے اس احتجاج پر توجہ نہیں دی، انگریز پاکستان کے قیام کے خلاف اٹھنے والی آواز کو نظر انداز کر رہے تھے تاکہ انہیں یہ لگے کہ متحدہ اور وسیع ہندوستان مستقبل میں مغربی ممالک کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔

اس سے پہلے ترکی کی سلطنت عثمانیہ کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا

تقسیم ہند سے پہلے انگریزوں اور ان کے اتحادیوں نے ترکی کی سلطنت عثمانیہ کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا اور وہ سمجھ چکے تھے کہ اپنے مخالفین کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا برطانوی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے مفاد میں ہے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

12 – بارہویں قسط

13 – تیرہویں قسط

14 – چودہویں قسط

15 – پندرہویں قسط

16 – سولہویں قسط

17 – سترہویں قسط

18 – اٹھارہویں قسط

19 – انیسویں قسط

20 – بیسویں قسط

× Join Whatsapp Group