منگل, مارچ 28, 2023
Homeسیاستاویسی پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مکمل تفشیش کی جائے: نواب ملک

اویسی پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مکمل تفشیش کی جائے: نواب ملک

کابینی وزیر نواب ملک نے اویسی پر ہوئے حملے کی سخت لفظوں میں مزمت کی اور کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر حملہ نہایت سنگین معاملہ ہے

ممبئی: مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی پر ہوئے حملے کی مکمل تفشیش کی جائے۔ ایسا مطالبہ آج یہاں نیشنلسٹ کانگریس نے کیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان و مہاراشٹرا کے کابینی وزیر نواب ملک نے اویسی پر ہوئے حملے کی سخت لفظوں میں مزمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر حملہ نہایت سنگین معاملہ ہے۔ نیز اتر پردیش حکومت کو اس سلسلے میں سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

نواب ملک نے کہا کہ اتر پردیش میں انتخابی مہم کے لیے آنے والے تمام لیڈروں کے تحفظ کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے۔ اس لئے فوری طور پر اترپردیش کے ڈی جی پی کو ریاست میں آنے والے تمام اسٹار پرچارکوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے کا حکم دینا چاہئے۔

مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے گواہان کے منحرف ہونے پر اظہار خیالات

انہوں نے مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے گواہان کے منحرف ہونے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے گواہان مسلسل منحرف ہو رہے ہیں۔ یقینی طور پر گواہان کا یہ انحراف کسی نہ کسی طور پر ملزمین کو بچانے کی کوشش کے طور پر ہے۔ لیکن اس کے ذریعے ملک کی حفاظت میں شہید ہونے والے ہیمنت کرکرے کی قربانی پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے سرکاری وکیل اور ان سے وابستہ افراد پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لہٰذا عدالت کو چاہئے کہ وہ ان تمام معاملات کا نوٹس لے۔

واضح رہیکہ اس سے قبل ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر و سابق وزیر نسیم خان نے ان گواہان کے اپنے سابقہ بیان سے انحراف کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اور انسداد دہشت گرد دستے کے سربراہ سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ چونکہ اب اس معاملے کی تفشیش این آئ اے ضرور کر رہی ہے لیکن ابتدائ ایام میں کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر ملزمین کو اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا اور گواہان کے بیانات بھی اے ٹی ایس نے ہی درج کیا تھا۔

لہذا گواہان کا تحفظ اور انکے بیانات کے عدالت میں اندراج کی ذمہ داری اے ٹی ایس کی ہی ہے۔ لہذا اس پر سنجیدگی سے کاروائی کی جائے جس کے بعد اے ٹی ایس نے عدالت میں افسران کی موجودگی کی درخواست دی تھی جس کی سماعت التواء میں پڑی ہے۔

Stay Connected

1,388FansLike
170FollowersFollow
441FollowersFollow
RELATED ARTICLES

Stay Connected

1,388FansLike
170FollowersFollow
441FollowersFollow

Most Popular

Recent Comments